.

حاکم دبئی کا ’امید‘ کے پانچ چراغوں کا انتخاب!

’امید ساز‘ شخصیات کے لیے50 کروڑ درہم کے انعامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قارئین کو یاد ہوگا کہ چند ہفتے پیشتر حاکم دبئی متحدہ عرب امارات کے نائب صدراور وزیراعظم الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے دنیائے عرب سے ایسے پانچ افراد کے انتخاب کا اعلان کیا تھا جو فلاح انسانیت کے اپنے مشن کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے ہوں۔

حاکم دبئی نے ایسی ’امید ساز‘ شخصیات کے انتخاب کے لیے ’ایک ملین درہم کی ملازمت‘ کے عنوان سے مہم شروع کی تھی۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے لکھا تھا کہ ’ہمیں ایسے امید ساز‘ افراد کی تلاش ہے جو عالم عرب سے تعلق رکھتے ہوں۔

گذشتہ روز ان کی جانب سے اچانک یہ اعلان سامنے آیا کہ وطن عربی سے تعلق رکھنے والے ایسے پانچ افراد کو ’امید ساز‘ شخصیات کا لقب دیا گیا ہے۔ یہ وہ امید ساز شخصیات ہیں جو انسانی رہ نمائی اور ہدایت کے مینارہ نور ہونے کے ساتھ ساتھ خیر و فلاح انسانیت کے باب میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔

حاکم دبئی نےان پانچوں ’امید ساز‘ شخصیات کوفی کس 10 ملین درہم کے برابر رقم عطیہ کی۔ 50 کروڑ درہم مالیت کا یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا گراں قیمت انعام ہے۔

پانچوں ’امید ساز‘ شخصیات کی دبئی شہر میں ایک اسٹوڈیو میں باقاعدہ تاج پوشی کی گئی۔ اس موقع پر دبئی کے ولی عہد الشیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم، نائب حاکم دبئی الشیخ مکتوم بن محمد بن راشد آل مکتوم اور کئی دیگر حکومتی اور سماجی شخصیات موجود تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکم دبئی کی طرف سے عرب دنیا سے ’امید ساز‘ شخصیات کے انتخاب کے لیے شروع کی گئی مہم کے دوران 65 ہزار ’امید سازوں‘ نے مقابلے میں حصہ لیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے ’امید ساز‘ شخصیات کے اپنے اقدام میں کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امید ساز افراد عرب اقوام کا حقیقی چہرہ ہیں۔ یہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ عرب دنیا کے نوجوانوں میں امید کی کرن روشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب دنیا کو کئی ایسے تھپیڑے لگے ہیں کہ ہرطرف مایوسی دکھائی دیتی ہے مگر ایسا نہیں۔ عرب دنیا میں خیرو فلاح انسانیت کے لیے کام کرنے والے مردو زن موجود ہیں۔

حاضرین مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حاکم دبئی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ ہم اپنے لیے کیا کرتے ہیں۔ ہماری خوشی یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے کیا کررہے ہیں۔ کسی چھوٹی اور معمولی امید افزا کوشش کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ عرب اقوام اس وقت پیچیدہ اور مشکل حالات سے گذر رہی ہیں۔ ایسے میں ہماری اقوام میں امیدا کا چراغ روشن کرنے اور مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔