.

’جیش الحر‘ کے وفد کی ’جنیوا 6‘ مذاکرات میں عدم شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کی نمائندہ ’جیش الحر‘ نے گذشتہ روز جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی چھٹے جنیوا اجلاس شامی اپوزیشن اور حکومت کے نمائندوں کی شرکت کے باوجود مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اپوزیشن کی نمائندہ ’جیش الحر‘ نے اپنے ایک بیان میں چھٹے جنیوا اجلاس میں عدم شرکت کا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ چھٹے جنیوا مذاکرات میں ’مذاکراتی حکمت عملی‘ اور ویژن واضح نہیں تھا جس کے باعث جیش الحر کے وفد کو مذاکرات میں نہیں بھیجا گیا۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق کل جمعرات کے روز ہونےوالے اجلاس میں شامی اپوزیشن اور حکومت کے نمائندوں اور عالمی قوانین کےماہرین نے شام میں نئے دستور کی تیاری کی تجویز پر غور کیا۔ یہ تجویز شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن دی میستورا کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔

’العربیہ‘ کےنامہ نگار کے مطابق جنیوا مذاکرات میں شریک وفود کی جانب سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔ خاص طور پر جب یہ خبر سامنے آئی کہ دی میستورا نے شام میں نئے آئین کی تیاری کی تجویز واپس لے لی ہے تمام وفود ’کنفیوز‘ دکھائی دیے۔

مبصرین کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ دی اسٹیفن دی میستورا کی جانب سے آئین کی تیاری کی تجویز ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے اور اس تجویز پر شامی حکومت اور اپوزیشن مذاکرات پرآمادہ ہوسکتے ہیں تاہم شامی حکومت اور اپوزیشن کے متضاد نقطہ ہائے نظر کے پس منظر میں نئے دستوری ڈھانچے کی تیاری اور اس کے لیے مشترکہ کمیٹیوں کا قیام بھی مشکلات سے بھرپور سفر ہے۔