.

انتہا پسندی کا خاتمہ، سعودی عرب میں ڈیجیٹل مرکز قائم کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک آن لائن مرکز کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل محمد العیسیٰ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈیجیٹل مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔

محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی جنگی بنیادوں پر اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کو عام کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دنیا بھر میں اس کے ادارے اور افراد انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے کام کررہے ہیں۔

ریاض میں ’میریٹ‘ ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی نے دنیا بھر میں کئی مبلغین کو کام سے روک دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی بعض ذمہ دار تنظیموں اور اداروں کے قانونی پہلو پرنظرثانی کی جا رہی ہے۔ ایسا کرنا رابطہ عالم اسلامی کا اختیارات میں شامل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ داعش میں 101 ملکوں کے 45 ہزار جنگجو شامل ہوئے۔ یورپی ملکوں سے 1500 داعشی سامنے آئے۔ ان سب کو مذہبی تعلیمات کی آڑ میں ورغلایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں اسلامی تعلیمات اور مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں العیسٰی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام میں سعودی عرب کی خدمات غیرمعمولی ہیں۔ مملکت نے نہ صرف اندرون بلکہ بیرون ملک بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں تین ایسے مراکز کےقیام میں مدد کی ہے۔