.

داعش کے زیرتسلط 90 فیصد علاقے واپس لینے کا امریکی دعویٰ

داعش کی کمر توڑ دی مگر خطرہ بدستور برقرار: جیمز میٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے شام اور عراق میں داعش کے زیرتسلط 90 فی صد علاقے واپس لیے لیے گئے ہیں۔ داعش کے پاس قبضے میں لیے گئے علاقوں کا صرف دس فی صد رقبہ بچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ یہ تنظیم ماضی کی طرح طاقت ور نہیں رہی تاہم اس کی طرف سے خطرہ بدستور موجود ہے۔

العربیہ کے مطابق وائیٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شام کے الطبقہ شہر کو داعش سے چھڑانے میں سرگرم ڈیموکریٹک فورسز کی معاونت جاری رکھے گا۔

ادھر دوسری جانب داعش کے خلاف جنگ کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی بریٹ میک گورک نے پریس کانفرنس کےدوران کہا کہ داعش کا انجام قریب تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی ممالک نے داعش کے مالی سوتوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی مندوب کا کہنا تھا کہ ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ کی جانب سے الطبقہ شہر میں داعش کے خلاف آپریشن میں تنظیم کے 100 اہم جنگجوہلاک کیے گئے ہیں۔

اسی سیاق میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈانفورڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے داعش کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں میں داعش کے وجود کو ختم کررہے ہیں۔