.

عراق : قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر موصل معرکے سے بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ذمے دار ذرائع نے ہفتے کے روز العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ مسلح افواج کے سربراہ اور وزیر اعظم حیدر العبادی نے وفاقی پولیس کے چھٹے بریگیڈ کے کمانڈر ابو ضرغام المطوری کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ المطوری ایرانی قُدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق العبادی کا یہ اقدام موصل کے اولڈ سِٹی میں داعش تنظیم کے آخری گڑھ کو واپس لینے کے لیے شروع کی جانے والی فوجی کارروائی سے پہلے سامنے آیا ہے۔ العبادی نے المطوری کی جگہ بریگیڈیئر جنرل خلف البدران کو چھٹے بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کیا ہے۔

المطوری کا تعلق بدر ملیشیا سے ہے اور وہ ملیشیا میں پانچویں بریگیڈ کی کمان کو سنبھالتا تھا۔ اس بریگیڈ نے صدام حسین کے دور میں عراقی فوج کے خلاف ایرانیوں کی طرف سے لڑائی میں شرکت کی تھی۔ 2016 میں فلوجہ شہر کو واپس لینے کے لیے ہونے والے معرکے میں قاسم سلیمانی نے المطوری کو بریگیڈیئر جنرل کا درجہ دے کر وفاقی پولیس کے ضمن میں عسکری کمانڈر مقرر کیا تھا۔

ذرائع نے المطوری کی سبک دوشی کی اصل وجوہات کا ذکر نہیں کیا۔ تاہم مبصرین کا غالب گمان ہے کہ وزیر اعظم العبادی کا یہ فیصلہ امریکا کے ساتھ ہونے والی ڈیل کی کڑی ہے۔ اس ڈیل کا مقصد موصل میں داعش کے ساتھ آخری معرکے میں ایرانی رسوخ کو دور کرنا ہے۔