.

ٹرمپ کا تاریخی دورہ.. ریاض اور اسلامی دنیا کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریاض میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ عرب اسلامی سربراہ اجلاس کا عرب اور اسلامی دنیا کی جانب سے بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے۔

ایران نے اپنے ملک میں نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد سے خطے میں فرقہ واریت پھیلانے پر کام شروع کر دیا جس کے سبب خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ اسی سبب ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے وجود سے نالاں نظر آتے ہیں اور ان کی انتظامیہ نے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیا۔

ریاض میں ہونے والی سربراہ کانفرنسوں میں دہشت گردی کو اُس کی تمام صورتوں سمیت اور دیگر ملکوں کے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران کا کردار زیر بحث آئے گا۔

تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی نے سربراہ اجلاس اور ٹرمپ کی شرکت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ " تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا کے ساتھ عرب اور اسلامی ممالک کا سربراہ اجلاس ہو رہا ہے۔ یہ ٹرمپ کا پہلا بیرونی دورہ بھی ہے۔ ہمیں اس امر کو اُسی طرح سمجھنا ناگزیر ہے جیسا کہ اس کو سمجھنے کا حق ہے"۔

عرب اور اسلامی دنیا کے عوام امید کر رہے ہیں کہ ریاض کانفرنسوں سے واشنگٹن کے ساتھ رابطے پر قائم تعلقات کی نئی راہ پیدا ہو گی۔ ان کانفرنسوں کے انعقاد کے لیے سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دو ماہ تک بھرپور کوششیں مبذول کیں۔ اس سے قبل انہوں نے دو کامیاب اتحاد بھی تشکیل دیے۔ پہلے ایک عرب اور پھر اس کے بعد دوسرا اسلامی اتحاد۔ ان اتحادوں کے مشن کا واشنگٹن کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا۔ مقصد ایک ہی کہ مزید خوش حال عوام کے واسطے دنیا کو زیادہ محفوظ اور پُر امن بنایا جائے۔