.

خان شیخون میں کیمیائی حملے ٹھوس شواہد موجود ہیں: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ایک اہم خاتون اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے شمالی شہر ادلب کے نواحی علاقے کان شیخون میں مبینہ طور پر شامی فوج کی طرف سےنہتے شہریوں کے خلاف ’سیرین‘ گیس کے استعمال کیے جانے کے ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی اہلکار ایزومی ناکا میٹسو نے سلامتی کونسل کےاجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بین الاقوامی سطح پر معائنہ کاروں کو تحفظ کی ضمانت حاصل نہیں ہوجاتی کسی وفد کو خان شیخون میں مزید شواہد کی چھان بین کے لیے بھیجنا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے تاہم اقوام متحدہ بین الاقوامی سطح پر معائنہ کاروں کے لیے تحفظ کی ضمانت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ مارچ میں ادلب کے نواحی علاقے خان شیخون میں چار کیمیائی حملوں میں کم سے کم 88 افراد ہلاک اور سیکڑوں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملہ شامی اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں میں کیا گیا۔ اقوام متحدہ، امریکا اور اس کے یورپی حلیفوں نے اس حملے کا الزام اسد رجیم پر عاید کیا ہے تاہم صدر بشارالاسد اس حملے کی سختی سے تردید کرتے چلے آرہے ہیں ۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ کی ہتھیار پھینکنے سے متعلق امور کی ذمہ دار نے کہا کہ عالمی معائنہ کاروں کا تحقیقاتی کمیشن خان شیخون بھیجنے کی تیاریاں جاری ہیں تاہم انہوں نے اس ضمن میں کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے لیے سرگرم تنظیم کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیشن خان شیخون بھیجنے کی تیاری کررہی ہے تاکہ مزید شواہد اور ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جاسکیں۔

قبل ازیں کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے لیے سرگرم عالمی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ماہرین نے خان شیخون کے مقتولین، زخمیوں اور متاثر حیوانات کے خون کے نمونے حاصل کیے ہیں جن کے نتائج مثبت سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ انسان وحیوانات کے جسم میں سیرین جیسی مہلک کیمیائی گیس یا اس سے مشابہ مواد کے اثرات پائے گئے ہیں۔

سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ماہرین نے تین لاشوں،10 زخمیوں، پرندوں، مٹی اور نباتات کے نمونوں سے بھی خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کیےجانے کے شواہد جاننے کی کوشش کی ہے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل احمد ازومجو نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹیسٹوں کے نتائج یہ بات صاف طور پرواضح نہیں ہورہی کہ آیا خان شیخون میں شہریوں کےخلاف سیرین گیس کا استعمال کیا گیا یا اس سے ملتی جلتی کوئی دوسری گیس استعمال کی گئی تھی۔