.

داعش کا وزیر ِجنگ مارا گیا: شامی فوج کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے ملک کے شمال میں ایک کارروائی میں داعش کے ایک سرکردہ فوجی کمانڈر ابو مصعب المصری کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شامی فوج کے ایک ذریعے نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ابو مصعب المصری شام میں داعش کا ’’ وزیر جنگ‘‘ تھا۔اس سے پہلے شام کے سرکاری میڈیا نے ایک عسکری ذریعے کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ تمام گروپ کا وزیر جنگ تھا۔یعنی وہ داعش کی تمام تنظیم کا مرکزی فوجی کمانڈر تھا۔

شامی میڈیا کے مطابق فوج کی شمالی شہر حلب کے مشرق میں کارروائی میں ابو مصعب المصری سمیت داعش کے تیرہ سینیر کمانڈر ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں بعض سعودی اور عراقی شہری بھی تھے۔المصری اس علاقے میں 10 مئی سے جاری کارروائی کے دوران میں مارا گیا تھا لیکن شامی فوج کے ذریعے نے یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ کہاں ہلاک ہوا تھا۔

بغداد سے تعلق رکھنے والے داعش کے ایک ماہر ہشام الہاشمی کا کہنا ہے کہ اگر ابو مصعب المصری کی ہلاکت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ الرقہ کی جانب امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز کی چڑھائی اور اس کے ساتھ ایک بڑے معرکے سے قبل داعش کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ المصری داعش تنظیم میں چوتھے نمبر پر سب سے سینیر شخصیت تھا۔

داعش کا سابقہ وزیر جنگ ابو عمر الشیشانی گذشتہ سال مارا گیا تھا۔تب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ الشیشانی ممکنہ طور پر شام میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوا تھا۔داعش نے جولائی 2016ء میں اس کی موت کی تصدیق کی تھی لیکن یہ کہا تھا کہ وہ شام نہیں بلکہ عراق کے شمالی شہر موصل کے جنوب میں واقع شہر شرکت میں عراقی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوا تھا۔