.

قطر اور شدت پسند جماعتوں کے درمیان مستحکم تعلقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کو شدت پسند جماعتوں کی سپورٹ کے حوالے سے بے شمار الزامات کا سامنا رہا ہے۔ ان عناصر میں افغان طالبان اور لیبیا اور شام میں سرگرم انتہا پسند شامل ہیں۔ یہاں تک کہ النصرہ فرنٹ نے بھی قطر کی فلاحی مہم کو شام میں اپنے جنگجوؤں کو مالی رقوم کی فراہمی کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔

دوحہ کے شدت پسند جماعتوں کے ساتھ تعلق نے انسداد دہشت گردی میں قطر کے کردار پر سوالیہ نشانات لگا دیے.. البتہ قطر القاعدہ اور اس کی برادر تنظیموں سے قریب ہونے کے باوجود اپنے اس کردار کا دعوی کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" 2013ء سے اس معاملے روشنی ڈالتا رہا ہے کہ قطر نے اپنے شہری عبدالرحمن النعیمی کو سرکاری حمایت یافتہ فلاحی اور خیراتی اداروں میں اونچے منصبوں پر فائز کیا جب کہ النعیمی پر عراق اور شام میں القاعدہ اور اس کی شاخوں کو مالی رقوم فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے بھی النعیمی کو القاعدہ کے واسطے مالی رقوم کی فراہمی میں ایک سب سے بڑا کوآرڈی نیٹر شمار کیا ہے۔

برطانوی اخبار " دی ٹیلی گراف" نے بھی قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ہتھیاروں کی کھیپ پہنچا کر لیبیا شدت پسندوں کو سپورٹ کیا ہے۔ بالخصوص وہ عناصر جنہوں نے طرابلس میں برطانوی سفیر کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے " دی ٹیلی گراف" نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایک ایسی ریاست جو دہشت گردی کو سپورٹ کرتی ہے.. اُس کو برطانیہ میں سرمایہ کاری اور وہاں اہم ترین جائیدادوں کو ملکیت میں لینے کی اجازت کیوں دی گئی ہے؟

علاوہ ازیں " وال اسٹریٹ جرنل" نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کونسل نے سابق صدر باراک اوباما کو تجویز پیش کی تھی کہ قطر کے دہشت گرد جماعتوں کے ساتھ مسلسل تعلقات اور طالبان قیادت کی جانب سے دوحہ کو اپنا سفارتی مرکز بنانے پر احتجاج کرتے ہوئے وہاں سے امریکی افواج کو واپس بلا لیا جائے۔