.

نینویٰ کے عرب قبائل کا موصل میں ایران کی مداخلت بند کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی صوبے نینویٰ سے تعلق رکھنے قبائلی سرداروں نے عالمی برادری سے شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل فورس الحشد الشعبی کو موصل سے دور رکھنے اور خطے میں ایرانی مداخلت بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قبائلی سرداروں اور زعماء نے موصل کے شمال مغرب میں واقع علاقے میں قبائل کی ایک کانفرنس کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔انھوں نے الحشد الشعبی ملیشیاؤں پر مغربی موصل میں داعش کے خلاف جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں مکانوں کو مسمار کرنے اور املاک کی لوٹ مار کے الزامات عاید کیے ہیں۔

ایران کی حمایت اور تربیت یافتہ شیعہ ملیشیائیں موصل میں داعش کے خلاف گذشتہ سال اکتوبر سے جاری لڑائی میں عراقی فورسز کے شانہ بشانہ شریک ہیں۔ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے بھی الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

دریں اثناء عراق کے منصوبہ بندی کے وزیر سلمان الجمائیلی نے عالمی بنک کے علاقائی ڈائریکٹر سروج کمار جھا کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ہےکہ موصل کے داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں کی آیندہ دس سال کے دوران میں تعمیر نو کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس منصوبے پر قریباً ایک سو ارب ڈالرز لاگت آئے گی اور دو مراحل پر مشتمل اس منصوبے کا 2018ء سے آغاز ہوگا۔پہلا مرحلہ 2022ء تک ہوگا۔ دوسرے مرحلے کا 2023ء میں آغاز ہوگا اور یہ 2028ء میں مکمل ہوگا۔اس کا مقصد جنگ زدہ موصل کی ترقی اور اس میں استحکام لانا ہے۔