.

‘مانچسٹر بمبار نے والدین کے سامنے عمرہ کے سفرکا بہانہ بنایا‘

برطانوی خفیہ ادارےالعبیدی کو تیار کرنے والے’بم ساز‘ کی تلاش میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کےشہر مانچسٹر میں تین روز قبل ایک موسیقی کنسرٹ میں ہونے والے خود کش حملے اوراس میں ملوث بمبار سلیمان العبیدی کے بارے میں کئی نئے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ برطانوی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ مانچسٹر محفل موسیقی میں خود کش حملہ کرنےوالا سلیمان العبید لیبیا میں گھر سے عمرہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب کے سفر پرجانے کے بہانے سے نکلا مگر وہ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے بجائے اپنی موت حرام کرنے اور بے گناہوں کو قتل کی نیت سے برطانیہ روانہ ہوگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے برطانیہ کے بعض مقامی اخبارات میں العبیدی کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کا مطالعہ کیا۔ اخبار News Manchester Eevening کی رپورٹ کے مطابق مانچسٹر میں 22 افراد کو ہلاک کرنے اور 59 زخمی کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے خود کش بمبار سلیمان العبیدی کی پیدائش 22 سال قبل برطانیہ میں ہوئی۔ اس کے تین دوسرے بھائی بھی برطانیہ ہی میں پیدا ہوئے تاہم اس کے والدین کچھ عرصہ قبل لیبیا منتقل ہوگئے تھے۔ العبیدی کے والدین رمضان العبیدی اور والدہ سامیہ طبال دونوں مہاجرتھے۔

العبیدی فیملی کے ایک قریبی شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سلیمان العبیدی کئی سال سے مذہب کی طرف مائل تھا اور اس کی حرکات کی وجہ سے اس کے والدین کافی پریشان رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین نے سلیمان العبیدی کو واپس لیبیا بلایا اور اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا تھا۔

مانچسٹر میں مقیم العبیدی کے ایک دوست جمال زوبیا نے بتایا کہ العبیدی کےوالدین کو اس کےبارے میں کافی تشویش لاحق تھی اور وہ محسوس کررہے تھے کہ العبیدی اپنی حدیں عبور کررہا ہے۔ انہوں نے احتیاط کے طور پر العبیدی کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیا تھا تاکہ وہ کسی غلط ارادے سے بیرون ملک فرار نہ ہوسکے۔ مگر اس نے والدین کو دھوکہ دیا اور انہیں کہا کہ وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جانا چاہتا ہے۔ اس پر والدین مطمئن ہوگئے اور اسے پاسپورٹ دے دیا۔ مگر والدین کو پتا چلا کہ العبیدی سعودی عرب جانے کے بجائے مانچسٹر کی پرواز پر بیٹھ گیا ہے۔ اس پر والدین کو دوبارہ پریشانی لاحق ہوئی۔ برطانیہ پہنچنے کے بعد چند روز تک اس نے والدین سے کوئی رابطہ نہ کیا تاہم خود کش حملے سے پانچ روز قبل اس نے لیبیا میں اپنے والدین سے رابطہ کیا اور کہا وہ مانچسٹر سے ریاض جانے والی پرواز سے عمرہ پر جا رہا ہے۔ والدین ایک بار پھر مطمئن ہوگئے مگر اب کی بار بھی ان کا اطمینان عارضی تھا۔

سلیمان العبیدی کو مسلح کرنے والے بم ساز کی تلاش

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق برطانیہ کے خفیہ ادارے اس وقت اس بم ساز دہشت گرد کی تلاش میں ہیں جس نے بڑی حکمت اور تدبیر کے ساتھ العبیدی کو بارودی مواد سے مسلح کیا۔

رپورٹس کے مطابق برطانوی خفیہ اداروں کو خفیہ کیمروں سے العبیدی کی تصاویر موصول ہوئی ہیں جن میں اسے مانچسٹر کنسرٹ کی طرف جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس نے کمر کے ساتھ ایک بیگ باندھ رکھا ہے۔ پولیس اور خفیہ ادارے دن رات اس کی تلاش میں ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مانچسٹر دہشت گردی اسی سات رکنی داعشی سیل کی کارستانی ہےجس کے چھ عناصر پہلے ہی زیرحراست ہیں اور ایک دہشت گرد ابھی تک پکڑائی نہیں دیا۔

مانچسٹر دہشت گردی کے حوالےسے سامنےآنے والی مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سلیمان العبیدی کے معاون بم ساز نے ہلکا اور چھوٹا بم مگر زیادہ خطرناک بم اس کے بیگ میں ڈالا۔

اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق العبیدی نے دھماکے کے لیے اپنے ہاتھ میں اٹھائی ایک الیکٹرک ڈیوائس سے خود کو کرنٹ لگایا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے بیگ میں موجود بم بھی زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس کی پشت کی طرف آنے والے افراد بم کے چھروں اور ان میں نصب میخوں کا زیادہ نشانہ بنے جب کہ بم نے العبیدی کو آگے کی طرف اٹھا کر پھینکا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنی پشت کی سمت میں کنسرٹ کے شرکاء کو نشانہ بنایا تھا۔