.

بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران کو زبردستی خوراک دینے پرغور

بھوک ہڑتال ختم کرنے کا خطرناک طریقہ اپنانے پرانسانی حقوق کی تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جیلوں میں دو ہزار کے قریب فلسطینیوں کی 17 اپریل سے جاری اجتماعی بھوک ہڑتال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ دوسری طرف صہیونی انتظامیہ نے بھوک ہڑتالی اسیران کی ہڑتال ختم کرنے کے لیے انتہائی خطرناک اور متنازع طریقہ کار اپنانے پر غور شروع کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بھوک ہڑتالی اسیران کی صورت حال کو فالو کرنے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ’آزادی اور وقار‘ بھوک ہڑتال تحریک میں شامل فلسطینی قیدیوں کو زبردستی خوراک دینے کا انتہائی خطرناک طریقہ اپنانے پر غور شروع کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسیران کو جبرا خوراک دینے کے فیصلے میں اسرائیل کی سیاسی قیادت اور جیل انتظامیہ میں بھی اتفاق پایا جاتا ہے۔

کمیٹی کے مطابق بہ ظاہر لگتا ہے کہ صہیونی انتظامیہ فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لیے انتہائی خطرناک طریقہ اپنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

ادھر دوسری جانب فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع اور کلب برائے اسیران کے چیئرمین قدورہ فارس نے خبردار کیا کہ اسیران کو زبردستی خوراک دینے کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبرا خوراک دینے اور بھوک ہڑتالی اسیران کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کے تمام نتائج کی ذمہ داری صہیونی ریاست پر عاید ہوگی۔

قراقع اور قدورہ فارس نے بین الاقوامی برادری، عالمی اداروں بالخصوص عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کی مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسیران نے بہ طور احتجاج پانی پینا بھی ترک کردیا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ چالیس روز سے جاری بھوک ہڑتال انتہائی خطرناک اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور بڑی تعداد میں بھوک ہڑتالی قیدی اسپتالوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔