.

مصر: قِبطیوں کی بس پر فائرنگ میں 26 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے جنوبی صوبے المنیا میں دہشت گردی کے تازہ ترین واقعے میں بچوں سمیت کم از کم 26 قِبطیوں کو فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ حملے میں 26 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں اکثر کی حالت تشویش ناک ہے۔

ٹوئیٹر پر ایک قِبطی ذمے دار کا کہنا ہے کہ قِبطیوں پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہے۔

ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ہنگامی طور پر ایک سکیورٹی اجلاس طلب کر لیا تا کہ المنیا کی اس وحشیانہ قتل و غارت گری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ اس دوران مصری وزارت داخلہ نے اسپیشل فورسز کی مدد سے المنیا صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے تا کہ مسلح افراد کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔

عینی شاہدین کے مطابق 3 گاڑیوں میں سوار 10 مسلح افراد نے قِبطیوں کو لے جانے والی دو بسوں پر حملہ کر کے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ پہلی بس میں سوار افراد المنیا میں واقع مذہبی مقام "دیر الانباء صاموئیل" جا رہے تھے جب کہ دوسری بس میں المنیا صوبے کے دو دیہات سے تعلق رکھنے والے 16 مزدور سوار تھے۔

المنیا کے صوبے کے سکیورٹی سربراہ اور دیگر اعلی اہل کاروں نے جائے واقعہ کا دورہ کیا۔ اس دوران ایمبولینس کی گاڑیاں زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ہنگامی حرکت میں نظر آئیں۔ سکیورٹی فورسز نے مجرموں کی گرفتاری کے لیے علاقے کا گیھراؤ کر لیا۔ بعض زخمیوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مسلح افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے قبطیوں کی سواریوں پر اندھادھند فائرنگ کر ڈالی۔

یاد رہے کہ یہ تازہ حملہ مصر میں قِبطیوں کے دو کلیساؤں پر داعش تنظیم کے حملوں کے ڈیڑھ ماہ بعد کیا گیا ہے۔ کلیساؤں پر کیے جانے والے حملوں میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری جانب شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے جو اس وقت جرمنی میں ہیں.. اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ کوئی مسلمان اور مسیحی اس کارروائی سے راضی نہیں ہو سکتا جس کا مقصد مصر میں امن و امان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ احمد الطیب نے مصر کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بزدلانہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے واسطے مکمل طور پر متحد ہو جائیں۔

مصر کے وزیراعظم شریف اسماعیل نے بھی المنیا صوبے میں پیش آنے والے دہشت گردی کے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے مجرمانہ کارروائی کا شکار ہونے والوں کے لیے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مجرموں کے تعاقب اور ان کی فوری گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔