.

حزب اللہ کےمقرب لبنانی کا منی لانڈرنگ کے الزامات کا اعتراف

امریکی عدالت نے جوزف اسمر کے خلاف فیصلہ محفوظ کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک وفاقی عدالت کے سامنے لبنان سے تعلق رکھنےوالے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مقرب ملزم نے منی لانڈرنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کا اعتراف کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق نیویارک کی بروکلین میں قائم کردہ وفاقی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے لبنانی شہری جوزف اسمر نے اعتراف کیا کہ وہ منی لانڈرنگ اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث رہا ہے۔

امریکی پراسیکیوٹر نے جمعہ کے روز عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم جوزف اسمر کا تعلق لبنان سے ہے۔ 43 سالہ اسمرنے فوج داری عدالت کے جج اریک فیٹالیانو کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا وہ منی لانڈرنگ کرتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ جوزف اسمر کو اکتوبر 2015ء کو فرانس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 14 ماہ کے بعد اسے امریکا کے حوالے کردیا گیا تھا۔

ملزم کے وکیل آرون الٹمن نے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ اس کے موکل نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے قبل کی زندگی میں منی لانڈرنگ اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث رہا ہے تاہم وہ مستقبل قریب میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے دعا گو ہے۔

خیال رہے کہ جوز اسمر اور ایک لبنانی کاروباری خاتون ایمان القبیسی کی گرفتاری کے لیے مسلسل دو سال کوششیں کی گئیں۔ انہیں اس وقت پکڑا گیا جب انہوں نے امریکا میں انسداد منشیات کے شعبے کے ایک اہلکار سے منشیات اسمگلر سمجھ کر ملاقات کی تھی۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ جوزف اسمر نے امریکی انسداد منشیات کے عہدیدار کو اپنا محافظ سمجھا اور یہ گمان کیا تھا کہ اس کے مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بنکوں کےساتھ رابطے ہیں۔ اسمر نے امریکی عہدیدار کی مدد سے منی لانڈرنگ کی ناکام کوشش کی۔ وہ حزب اللہ کے منشیات کے ٹرکوں کو محفوظ بنانے کےلیے بھی غیرقانونی طریقے سے رقوم کی منتقلی کی کوشش کرتا رہا ہے۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ امریکی خفیہ افسران نے اسمر اور اس کے ساتھیوں کو چار لاکھ ڈالر دینے کی پیشکش کی اور اسے بتایا کہ یہ رقم منشیات کی تجارت سے کمائی گئی۔ اب اس کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے اسے دی جا رہی ہے۔ اسمر امریکیوں کی چال سمجھ نہیں سکا اور ان کے جھانسے میں آگیا۔

عدالت نے جوزف اسمر کے خلاف فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جوکسی بھی وقت سنایا جاسکتا ہے۔ امسر کو بیس سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس کی ساتھی ایمان القبیسی کے خلاف مقدمہ کی سماعت جاری ہے۔