.

صنعاء: حوثیوں کی نمازِ تراویح روکنے کی دھمکی، لاؤڈ اسپیکروں کی بندش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں باغی حوثی ملیشیاؤں نے آئمہ مساجد کو نماز تراویح سے روک دینے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ یہ اقدام نمازیوں کے لیے اشتعال انگیزی اور حوثی جماعت کے فرقہ وارانہ رجحانات کا مظہر ہے۔

ذرائع کے مطابق ملیشیاؤں نے انتباہی مہم شروع کی ہے جس میں مساجد کے آئمہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ نماز تراویح کو روک دیں یا کم از کم نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران لاؤڈ اسپیکروں کو بند کر دیں۔

صنعاء میں کئی مساجد کے آئمہ نے اس حوالے سے سخت لہجے پر مشتمل انتباہی نوٹفکیشن موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران وزارت اوقاف کی جانب سے مجوزہ ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے۔

آئمہ کے مطابق حوثی ارکان اُس وقت تک مساجد سے نہیں جاتے جب تک مساجد کے آئمہ ان معاہدوں پر دستخط نہیں کر دیتے جن کے مطابق مسجد کے اندر کسی قسم کا درس اور بیان نہیں دیا جائے گا اور لاؤڈ اسپیکروں کو مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔ صنعاء کی کئی مساجد میں نماز تراویح کے دوران لاؤڈ اسپیکروں کی بندش دیکھی گئی ہے۔

آئمہ مساجد نے واضح کیا کہ اُن پر مسلط شروط میں "حوثی جماعت اور لڑائی کے محاذوں پر اس کے جنگجوؤں کے لیے دعا" بھی شامل ہے۔

حوثی ملیشیاؤں نے گزشتہ عرصے کے دوران اپنے زیر کنٹرول صوبوں میں درجنوں مساجد پر دھاوا بول کر وہاں اپنے خطیب مقرر کر دیے۔ علاوہ ازیں مذکورہ مساجد کے اصل آئمہ اور خطیبوں کو گرفتار اور اغوا بھی کیا گیا۔

واضح رہے کہ 21 ستمبر 2014 کو یمنی دارالحکومت پر باغیوں کے قبضے کے بعد سے درجنوں خطیب حوثیوں کے ہاتھوں اغوا اور تشدد سے بچنے کے لیے دیگر صوبوں یا عرب ممالک نقل مکانی کر گئے۔

باخبر ذرائع کے مطابق جو آئمہ مساجد حوثیوں کے چنگل میں آنے سے پہلے ہی راہ فرار اختیار کر گئے.. ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو گرفتاری اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یمن کی آئینی حکومت کی وزارت اوقاف نے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا کہ حوثی اور معزول صالح کی ملیشیائیں 750 مساجد کو دھماکوں ، گولہ باری اور لوٹ مار کا نشانہ بنا چکے ہیں جب کہ متعدد صوبوں میں 150 آئمہ مساجد اور خطیبوں کو اغوا بھی کیا گیا۔