.

دمشق کے نواحی علاقے برزہ سے شامی باغیوں کا انخلاء مکمل

صدر بشارالاسد کی دارالحکومت کے نواحی علاقوں میں چار سال بعد دوبارہ عمل داری قائم ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے برزہ سے باغیوں اور ان کے رشتے داروں کا انخلاء مکمل ہوگیا ہے اور وہ اپنا گھربار چھوڑ کر ملک کے شمال مغرب کی جانب چلے گئے ہیں۔

شامی حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت محاصرہ زدہ برزہ سے باغی جنگجو اور ا ن کے رشتے دار وں کو باغی گروپوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب میں منتقل کیا گیا ہے ۔دمشق کے گورنر نے سوموار کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں برزہ سے حکومت مخالفین کے مکمل انخلاء کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تمام علاقہ اب ریاست ( اسد حکومت) کے کنٹرول میں آگیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق 455 جنگجوؤں سمیت 1012 افراد بسوں کے ایک قافلے کی شکل میں شمالی شام کی جانب روانہ ہوئے تھے۔برزہ اور اس سے ملحقہ علاقوں قابون اور تشرین پر باغی گروپوں کا گذشتہ چار سال سے قبضہ تھا جبکہ شامی فوج نے ان تمام علاقوں کا مکمل محاصرہ کررکھا تھا۔2013ء کے بعد پہلی مرتبہ یہ علاقے صدر بشارالاسد کی حکومت کے دوبارہ کنٹرول میں آگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ برزہ سے بسوں کا آخری قافلہ سوموار کو بعد از دوپہر روانہ ہوا تھا۔برزہ کو چھوڑ کر جانے والے زیادہ تر افراد باغیوں کے مضبوط گڑھ شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب جارہے تھے جبکہ بعض ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے جرابلس کی جانب رواں دواں تھے۔اس قصبے پر ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کا قبضہ ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران میں شامی باغیوں اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے درمیان مختلف سمجھوتوں کے تحت سیکڑوں جنگجو اور ان کے خاندان دمشق کے نواحی علاقوں سے ادلب کی جانب منتقل ہوگئے ہیں۔شامی صدر جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے انخلاء کو اپنی حکومت کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

وہ اس کو مصالحتی عمل قرار دیتے ہیں جس کے تحت شامی فوج کے محاصرے کا شکار علاقوں سے جنگجو ؤں اور ان کے خاندانوں کو مصالحت کے تحت سرکاری بسوں کے ذریعے شمال مغربی علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔اگر وہ اسد حکومت کی عمل داری کو تسلیم کر لیتے تو وہ اپنے آبائی علاقوں میں آباد رہ سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے محاصرے اور پھر وہاں سے مقامی لوگوں کی نام نہاد سمجھوتوں کے تحت دوسرے علاقوں کی جانب منتقلی کے عمل پر کڑی تنقید کی ہے اور اس کو علاقے کے مکینوں کی جبری بے دخلی قرار دیاہے ۔

برزہ شامی دارالحکومت کے شمال مشرق میں واقع ہے اور یہ باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی الغوطہ کے نزدیک ہے۔ اس قصبے میں حالیہ مہینوں کے دوران میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور شامی فوج نے باغیوں کو سرنگوں کرنے کے لیے ان کے زیر قبضہ علاقوں پر تباہ کن بمباری کی تھی۔