.

قطر اور بہارِ عرب : شدّت پسندوں کو مالی رقوم اور اسلحے کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جریدے "فارن پالیسی" میں شائع ایک مضمون میں خطے میں قطر کی پالیسیوں کو واضح کیا گیا ہے.. اور شدت پسند جماعتوں کو مالی رقوم اور براہ راست اسلحہ فراہم کرنے میں قطر کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

جریدے نے خطے میں قطر کی پالیسیوں کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے کے عدم استحکام میں پورا کردار ادا کیا۔

جریدے کی رپورٹ کے مطابق قطر نے بہارِ عرب کو شدت پسندی پھیلانے کے موقع میں تبدیل کر ڈالا۔ اس سلسلے میں مصر میں الاخوان کے اقتدار تک پہنچنے کے لیے تنظیم کی کوششوں کی مالی سپورٹ کی گئی۔ اس کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی گئی۔

علاوہ ازیں قطر نے لیبیا اور شام میں شدت پسند جماعتوں کو براہ راست شکل میں مسلح کرنے کے واسطے مالی رقوم فراہم کرنے کا کردار ادا کیا جو کہ دونوں بحرانوں میں امریکی پالیسیوں کے متضاد امر تھا۔

رپورٹ میں دوحہ پر امریکا کے غضب ناک ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جب دہشت گرد خالد شیخ محمد اس کی تحویل سے فرار ہو گیا۔ قطر کی حکومت کی اعلی ترین سطح سے یہ بات افشا ہو کر خالد شیخ تک پہنچی کہ واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان خالد کو امریکا کے حوالے کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ بعد ازاں خالد شیخ ستمبر 2011 میں نیویارک کے حملوں کا منصوبہ ساز بنا۔

فارن پالیسی جریدے نے قطر کی جانب سے بالخصوص عراق جنگ میں دُہرے اقدامات کیے جانے پر بھی روشنی ڈالی۔ ایک جانب امریکی لڑاکا طیارے "العدید" کے فضائی اڈے سے عراق پر حملے کے لیے اڑان بھر رہے تھے تو دوسری جانب قطر کا میڈیا جنگ کی مذمت اور واشنگٹن کے خلاف اشتعال پھیلانے میں مصروف عمل تھا۔

جریدے کی رپورٹ کے مطابق " یہ میڈیا پلیٹ فارمز خود اسامہ بن لادن کی ریکارڈنگز پھیلانے کا اولین ذریعہ بن گئے تھے"۔ ان ذرائع ابلاغ کے کیمرے "اتفاقی طو پر" عراق میں امریکی افواج پر القاعدہ کے حملوں سے قبل ہی ان کارروائیوں کی تصدیق کے لیے موجود ہوتے تھے۔