.

موصل : داعش کے خلاف لڑائی میں شدت ، خوراک ، پانی اور ادویہ کی قلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عراق کے شمالی شہر موصل کے مختلف حصوں میں داعش نے ہزاروں شہریوں کو روک رکھا ہے اور انھیں خوراک ،پانی اور ادویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی امور کی رابطہ کار لیس گرینڈے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موصل کے قدیم شہر اور تین دوسرے علاقوں میں اس وقت بھی قریباً دو لاکھ افراد موجود ہیں۔ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی عراقی فوج نے موصل کے دریائے دجلہ کے مغربی جانب واقع حصے میں داعش کے خلاف ایک نئی کارروائی شروع کی ہے۔

مس گرینڈے نے بتایا ہے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے باہر نکل آنے میں کامیاب ہونے والے لوگوں نے وہاں ڈرامائی صورت حال کی اطلاع دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کو خوراک اور ادویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اور انھیں محدود مقدار میں پانی مہیا ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں صحت کی سہولتیں تو موجود ہیں لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کام بھی کررہی ہیں یا نہیں۔

عراقی فورسز نے داعش کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقوں پر پرچے گرائے ہیں اور ان میں وہاں موجود خاندانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے جائیں لیکن وہ عراقی فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آنے کے خوف سے اپنے گھروں سے نکلنے سے گریزاں ہیں۔

لیس گرینڈے کا کہنا تھا کہ ہمیں حکام کی جانب سے یہ مطلع کیا گیا ہے کہ انخلا لازمی نہیں ہے ۔ اگر شہری اپنے مکانوں ہی میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو عراقی سکیورٹی فورسز ان کا تحفظ کریں گی۔جو لوگ اپنا گھربار چھوڑنے کا انتخاب کرتے ہیں تو ان کی محفوظ راستوں کی جانب راہ نمائی کی جائے گی۔

دریں اثناء عراقی حکومت کے ایک مشیر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ مغربی موصل میں شدید لڑائی جاری ہے اور وہاں شہریوں کی موجودگی کے پیش نظر ہمیں مزید محتاط ہونا ہوگا‘‘۔

داعش کے جنگجو موصل کے گنجان آباد قدیم حصے میں خودکش بم دھماکوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے عراقی فورسز کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔عراقی فورسز نے ہفتہ عشرہ قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں کے زیر قبضہ موصل کا صرف بارہ مربع کلومیٹر کا علاقہ رہ گیا ہے۔عراقی فورسز کے لیے اب اس بارہ مربع کلومیٹر علاقے کو بازیاب کرانا مشکل تر ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی فورسز نے ایک سو دن کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے دریائے دجلہ کے مشرق میں واقع حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور اب وہ داعش کے آخری مضبوط گڑھ شہر کے مغربی حصے پر مکمل کنٹرول کے لیے کارروائی کررہی ہیں لیکن داعش کے جنگجو شہر کے گنجان آباد قدیم حصے میں ان کی سخت مزاحمت کررہے ہیں اور وہ مبینہ طور پر وہاں رہ جانے والے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

عراقی فورسز کا مغربی موصل میں مرکزی ہدف مسجد النوری پر قبضہ کرنا ہے جہاں سنہ 2014ء سے داعش کا سیاہ پرچم لہرا رہا ہے۔اسی مسجد سے داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے اپنی حکومت کا اعلان کیا تھا۔اگر اس مسجد پر عراقی فورسز کا قبضہ ہوجاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی عراق سے داعش کی خود ساختہ خلافت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔