حوثیوں نے جنگ زدہ یمنیوں کی امداد میں کیسے لوٹ مار کی؟

امداد مستحقین تک نہ پہنچنے کے باعث 70 لاکھ یمنی فاقو کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے وزیر برائے لوکل گورنمٹ اور سپریم ریلیف کمیٹی کے چیئرمین عبدالرقیب فتح نے ایران نواز حوثی باغیوں پرایک بار پھر جنگ زدہ شہریوں کے لیے آنے والی امداد کی لوٹ مار کا الزم عاید کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی باغی دھوکہ دہی کے ذریعے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے ذریعے یمنی قوم کے لیے بھیجے گئے امدادی سامان کو لوٹتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی مجرمانہ لوٹ مار کے نتیجے میں جنگ سے متاثرہ یمنی عوام امداد سے محروم رہے جس کے باعث ملک میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران نے جنم لیا۔

خیال رہے کہ یمن کے سرکاری اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے امدادی سامان پرشب خون مارنے سے 70 لاکھ کے قریب شہری فاقہ کشی کا شکار ہوئے ہیں۔ امدادی سامان کی لوٹ مار کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

سب سے زیادہ امدادی سامان کی لوٹ مار الحدیدہ بندرگاہ سے یمن میں داخل ہونے والے امدادی سامان کے ٹرکوں سے کی گئی۔یمنی وزیر کے مطابق باغی عناصر بیرون ملک سے پہنچنے والی امداد کو فراڈ اور دھوکہ سے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں لے جاتے جس کے نتیجے میں مستحقین تک امداد نہیں پہنچ پاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ باغیوں کی جانب سے عالمی امدادی اداروں کو بلیک میل کرنے کے لیے مستحقین کی جعلی فہرستیں پیش کی جاتیں۔ یہ فہرستیں حوثیوں کے حامی قبائلی سرداروں کی مدد سے امدادی تنظیموں تک پہنچائی جاتیں جس کے نتیجے میں امدادی سامان کی بھاری مقدار حوثیوں کو ملتی رہے۔ وہ امدادی سامان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن سے جنگی سازو سامان خرید کرنے کے ساتھ ساتھ جنگجوؤں کو محاذ پر بھیجتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں