شام :الرقہ میں داعش کے بحرینی مفتیِ اعظم کی ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

داعش نے اپنے مفتیِ اعظم اور بحرین میں سخت گیر گروپ کی شاخ کے معروف رہ نما تركی البنعلی کی شام کے شہر الرقہ میں اتحادی فوج کے ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

تركی البنعلی ابو ہمام الاثری ، ابو سفیان السلیم اور ابو حذیفہ البحرینی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ بنعلی داعش کے لیبیا کے شہر سرت میں معروف لیڈر رہے تھے ۔وہ وہاں مساجد میں داعش کے اجتماعات سے خطاب کیا کرتے تھے۔وہ 2013ء میں سرت میں منتقل ہوئے تھے ۔انھوں نے وہاں مسجد الرباط میں اسی سال اکتوبر میں ایک تقریر میں شہر کے مکینوں پر زوردیا تھا کہ وہ داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرلیں۔

اس کے بعد وہ جولائی 2015ء میں شام کے شہر الرقہ میں نمودار ہوئے تھے۔وہاں وہ عید کی نماز کے بعد دوبارہ لیبیا چلے گئے تھے۔لیبیا کے مشرقی شہر درنہ میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں داعش کے ایک اور لیڈر الانباری کی ہلاکت کے بعد تركی البنعلی سرت منتقل ہوگئے تھے اور انھوں نے ابوبکر البغدادی کی ہدایت پر داعش کے جنگجوؤں کو از سر نو منظم کیا تھا۔

چونتیس سالہ بنعلی بحرین کے شہرالمحرق میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اسی شہر میں واقع مدرسہ الایمان سے حاصل کی تھی اور مدرسہ الہدایہ کے شعبہ ادب سے اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی تھی۔

اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے دبئی کے کلیہ الاسلامیہ و العربیہ میں داخل ہوئے تھے۔جہاں انھوں نے ڈیڑھ سال تک ہی تعلیم حاصل تھی اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے شارجہ میں ان کی قیام گاہ پر چھاپا مار کارروائی کرکے انھیں گرفتار کر لیا تھا اور اس کے بعد انھیں بے دخل کر کے واپس بحرین بھیج دیا تھا۔

تركی البنعلی المحرق میں ایک بازار میں واقع مسجد میں امام اور خطیب بن گئے تھے لیکن ان کی انتہا پسندانہ تقریروں کی وجہ سے انھیں وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ الحالہ شہر میں واقع عمر بن عبدالعزیز اسکول میں مختصر وقت کے لیے استاد بھی تعینات رہے تھے لیکن انھیں اس اسکول کی ملازمت سے بھی نکال دیا گیا تھا۔

2015ء میں بحرین کی وزارت داخلہ نے تركی البنعلی کے انتہا پسندانہ خیالات اور انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر ان کی شہریت منسوخ کردی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں