عراق : داعش کی جانیں بچا کر بھاگنے والے شہریوں پر فائرنگ ، 7 ہلاک ، 23 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں واقع علاقے الزنجیلی سے جانیں بچا کر بھاگنے والے شہریوں پر داعش کے جنگجوؤں نے فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور تیئیس زخمی ہوگئے ہیں۔

داعش کا مغربی موصل میں واقع الزنجیلی ، قدیم شہر اور میڈیکل سٹی کمپلیکس پر ابھی تک قبضہ برقرار ہے۔داعش نے جمعرات کے روز الزنجیلی سے بھاگ نکلنے والے مکینوں کے پہلے گروپ پر فائرنگ کی ہے ۔زخمی ہونے والے افراد کا اب شہر سے باہر ایک فیلڈ کلینک میں علاج کیا جارہا ہے۔ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ علاقے سے بھاگنے کی کوشش میں مزید افراد بھی مارے جاسکتے ہیں۔

اس پولیس افسر کے مطابق دسیوں شہری الزنجیلی سے باہر نکلنے کے راستے کے ذریعے حکومت کے کنٹرول والے علاقے میں بہ حفاظت پہنچ گئے ہیں۔

موصل کے قدیم شہر کے دو مکینوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ عراقی فورسز کی پیش قدمی کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے میڈیکل سٹی کمپلیکس میں قید میں رکھے گئے افراد کو اب وہاں سے کہیں اور منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔

داعش کے جنگجو میڈیکل سٹی کے تہ خانوں کو جیل کے طور پر استعمال کررہے تھے اور انھوں نے وہاں عراقی فوج اور پولیس کے گرفتار کیے گئے افسروں اور اہلکاروں کو قید رکھا ہوا تھا۔ان کے علاوہ داعش کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب عام افراد کو بھی وہاں قید کیا گیا ہے۔

قبل ازیں موصل کے ایک مکین نے بتایا تھا کہ داعش نے زنجیلی کے علاقے میں رہنے والے خاندانوں کو شہر کے قدیم حصے کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے اور وہ انھیں عراقی فورسز کی جانب جانے سے روک رہے ہیں۔

عراقی فورسز نے داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر پرچے بھی گرائے ہیں ۔ان میں وہاں رہ جانے والے مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے جائیں لیکن وہ عراقی فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان جاری شدید لڑائی اور فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آنے کے خوف سے اپنے گھروں سے نکلنے سے گریزاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں