موصل: مسجد النوری کی ناکا بندی ، داعش آخری معرکے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں نے مسجد النوری کی جانب جانے والے تمام راستوں اور گلیوں کی ناکا بندی کردی ہے اور وہ عراقی فورسز کے ساتھ آخری معرکے کے لیے تیار ہیں۔

شہر کے مکینوں نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران میں اس تاریخی مسجد کے آس پاس کے علاقوں میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔دوسری جانب عراقی سکیورٹی فورسز بھی مسجد النوری پر قبضے کے لیے ایک بڑے حملے کی تیاری کررہی ہیں ۔موصل پر دوبارہ کنٹرول کی مہم میں ان کے لیے بھی مسجد النوری پر قبضہ اہمیت اختیار کرچکا ہے۔اس وقت اس مسجد اور اس کے آس پاس کے تین علاقے ہی داعش کے زیر قبضہ رہ گئے ہیں۔بعض عراقی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ وہ رمضان کے دوران میں داعش کے اس مضبوط گڑھ پر قبضہ کر لیں گے۔

مشرقِ وسطیٰ کے امور اور خاص طور پر داعش کے امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہشام الہاشمی کا کہنا ہے: ’’ داعش کے جنگجو اس بات سے آگاہ ہیں کہ مسجد النوری سب سے اہم ہدف ہے،اس لیے وہ وہاں ایک بڑی لڑائی کی تیاری کررہے ہیں‘‘۔

بعض دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسجد کے نزدیک لڑائی سے اس کی تاریخی عمارت اور میناروں کے لیے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔اس کے مینار عموداً زمین پر کھڑے ہیں اور سنہ 1970ء کے بعد سے ان کی تعمیر نو یا تزئین نو نہیں کی گئی ہے۔

عراقی فورسز گذشتہ آٹھ ماہ سے موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہی ہیں اور ان کی یہ کارروائی عراقی کمانڈروں اور حکام کے دعووں کے برعکس کافی طول پکڑ گئی ہے۔ عراقی فورسز نے ایک سو دن کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع شہر کے حصے کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

داعش کے جنگجو مبینہ طور پر موصل کے گنجان آباد قدیم حصے میں رہ جانے والے خاندانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے عراقی فورسز کو شہر کی تنگ وتاریک گلیوں میں زمینی پیش قدمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ داعش کے جنگجو خودکش بم دھماکوں ، کھلونا بموں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے عراقی فورسز کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔

شہر کے ایک مکین نے بتایا ہے کہ داعش نے زنجیلی کے علاقے میں رہنے والے خاندانوں کو شہر کے قدیم حصے کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے اور وہ انھیں عراقی فورسز کی جانب جانے سے روک رہے ہیں۔

عراقی فورسز نے داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر پرچے بھی گرائے ہیں ۔ان میں وہاں رہ جانے والے مکینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے جائیں لیکن وہ عراقی فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان جاری شدید لڑائی اور فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آنے کے خوف سے اپنے گھروں سے نکلنے سے گریزاں ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مغربی موصل کے مختلف حصوں میں داعش نے ہزاروں شہریوں کو روک رکھا ہے اور انھیں خوراک ،پانی اور ادویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔عالمی ادارے کے مطابق موصل کے قدیم شہر اور تین دوسرے علاقوں میں اس وقت بھی قریباً دو لاکھ افراد موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں