جنگ جاری رکھنے کے لیے حوثی ملیشیا کی زکوٰۃ کی لُوٹ مار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمنی دارالحکومت صنعاء میں باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باغی حوثی ملیشیاؤں نے لڑائی کے محاذوں پر کارروائیوں کے واسطے مالی رقوم حاصل کرنے کے لیے کمپنیوں اور دکانوں سے زکوٰۃ جمع کرنے کی مہم شروع کی ہے۔

ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا کے مقرر کردہ نگراں صنعاء کے بازاروں میں جا کر دکان داروں کو بلیک میل کر کے زکوٰۃ کی آمدنی جمع کر رہے ہیں تا کہ یہ زکوٰۃ متعلقہ سرکاری ادارے تک نہ پہنچ سکیں جو کمپنیوں اور دکانوں سے زکوٰۃ کی رقم اکٹھا کرتا ہے۔

دو روز قبل نام نہاد سپریم سیاسی کونسل نے باغیوں کی حکومت کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں زکوٰۃ کی آمدن پر روک لگانے اور اس کو ضبط کر کے صحیح شرعی مصارف میں استعمال کیے جانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

مبصرین کے نزدیک زکوٰۃ جمع کرنے کی مہم حوثیوں کی جانب سے اس اجلاس کا ردّ عمل ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا جا رہا ہے کہ ان کی جماعت درحقیقت ملیشیاؤں کے زیر کنٹرول علاقوں میں اصل اختیارات کی حامل ہے اور یہ بھی کہ حوثیوں اور معزول صدر صالح کے درمیان مساوی طور پر تشکیل پانے والی ریسکیو حکومت محض ایک ظاہری صورت کے سوا کچھ نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں کے مقرر کردہ نگراں مختلف بازاروں میں متعدد مسلح افراد کے ساتھ دکانوں پر دھاوا بولتے ہیں۔ وہ دکانوں کے مالکان کو دہشت زدہ کر کے مجبور کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کی رقم انہیں دی جائے اور اس کے مقابل کوئی سرکاری رسید بھی نہیں دی جاتی۔

باغی ملیشیاؤں کے سرغنہ عبدالملک الحوثی نے کچھ عرصہ قبل اپنے خطاب میں مطالبہ کیا تھا کہ "غریبوں کے مفاد میں" موجودہ زکوٰۃ آمدنی کا قانون تبدیل کیا جانا چاہیے۔ درحقیقت یہ زکوٰۃ کی رقوم پر قبضہ کرنے کی ایک کوشش ہے کیوں کہ باغی ملک کی آمدن کے تمام ذرائع پر پہلے ہی ہاتھ صاف کر چکے ہیں۔

اس سے قبل ایک خصوصی دستاویز کے ذریعے انکشاف ہوا کہ عمران صوبے میں حوثی قیادت کو ہدایات دی گئی تھیں کہ یمنیوں کی جانب سے ادا کی جانے والی زکوٰۃ کی رقوم کا نصف حصہ مسلح حوثی ملیشیاؤں کو فراہم کیا جائے تا کہ وہ یمنی عوام کے قتل اور ملک کو برباد کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اس دستاویز پر عمران صوبے کے مقامی حکام کی مُہر اور مقامی کونسل کے رکن اور حوثی رہ نما فیصل جمعان کے دستخط بھی تھے جس کو حوثیوں نے صوبے کا گورنر مقرر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں