موصل : عراقی افواج کی پیش قدمی ، داعش کے گرد گھیرا تنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شہر موصل کے مغربی حصے میں عسکری کمان نے اعلان کیا ہے کہ "الصحہ الاولی" نامی علاقے کو داعش تنظیم سے واپس لے لیا گیا ہے۔ آپریشنز کمانڈر عبد الامير رشيد يار الله کے مطابق انسداد دہشت گردی فورس نے مذکورہ علاقے کو آزاد کرا کر اس کی عمارتوں پر عراقی پرچم لہرا دیا۔
عراقی افواج نے موصل میں اولڈ سِٹی کے علاقوں میں محصور داعش کے جنگجوؤں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔
عراقی افواج تقریبا 7 ماہ سے داعش تنظیم کے خلاف شدید معرکوں میں مصروف ہے جو مبصرین کے مطابق شہر میں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اس سے قبل امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ مغربی موصل میں محصور داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 1000 سے زیادہ نہیں ہے۔
عراق میں اتحادی پولیس کے سربراہ شاکر جودت کے مطابق ان کی فورس احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہے اور الزنجیلی کے علاقے کے 40 فی صد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
کئی ماہ سے عراقی افواج نے موصل میں اولڈ سِٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ تاہم وہاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی عمارتوں اور تنگ سڑکوں کے سبب حملہ آور فورس کو داخلے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں مقامی آبادی بھی موجود ہے۔
اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ موصل کے معرکے کے آخری مراحل میں تقریبا دو لاکھ شہریوں کو بڑے خطرہ درپیش ہے کیوں کہ اندیشہ ہے کہ داعش انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں