.

موصل : داعش کی جانیں بچا کر بھاگنے والوں پرفائرنگ ، بیسیوں ہلاک وزخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں نے جانیں بچا کر بھاگ نکلنے والے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی ہے اور ان پر دستی بم پھینکے ہیں جس سے بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔داعش کے جنگجو عراقی فورسز کی جانب جانے والے شہریوں کو تشدد کے ذریعے روکنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

عراقی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ مغربی موصل کے علاقے الزنجیلی کے مکین بہت ہی الم ناک صورت حال سے دوچار ہیں۔داعش کے جنگجوؤں کو اگر کسی شہری کے فرار ہونے کی اطلاع ملتی ہے تو وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں اور پھر اس کو فوری طور پر گولی مار دیتے ہیں۔

الزنجیلی سے بھاگ کر عراقی فورسز کے پاس پہنچنے والےایک شہری نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کو شہریوں کے راہ فرار کے ایک محفوظ راستے کا پتا چلا گیا ہے۔یہ راستہ پیپسی کولا کی فیکٹری کے نزدیک سے گزرتا ہے۔ داعش کے جنگجوؤں نے وہاں عراقی فورسز کی جانب جانے کے لیے جمع افراد پر پہلے دستی بم پھینکے اور پھر مشین گنوں سے فائرنگ کردی جس سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا ہے کہ داعش نے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلانات کیے اور بھاگنے والوں کو خبردار کیا۔ پھر اپنے ماہر نشانچیوں کو بھاگنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کو ہلاک کرنے کا حکم دے دیا۔

صوبہ نینویٰ کی مقامی حکومت کے ایک عہدہ دار نے بتایا ہے کہ یہ قتل عام اتوار کو علی الصباح تین بجے شروع ہوا تھا اور سات گھنٹے جاری رہا تھا۔ اس حملے میں ڈھائی سو کے لگ بھگ شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی لاشیں ابھی تک شاہراہ پر پڑی ہیں اور انھیں وہاں سے ہٹایا نہیں جاسکا ہے۔

موصل میں واقع العذبہ اسپتال کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ ان کے پاس پہنچنے والے زخمیوں نے واقعے کی بہت ہی خوف ناک کہانی بیان کی ہے اور ایک خاتون نے بتایا ہے کہ داعش نے تمام افراد پر ہر طرف سے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔

داعش کا مغربی موصل میں واقع الزنجیلی ، قدیم شہر اور میڈیکل سٹی کمپلیکس پر ابھی تک قبضہ برقرار ہے۔انھوں نے جمعرات کے روز الزنجیلی سے بھاگ نکلنے والے مکینوں کے پہلے گروپ پر بھی فائرنگ کی تھی جس سے سات افراد ہلاک اور کم سے کم تیس زخمی ہوگئے تھے۔