.

یہودی بستیاں ہمارے امن کے لیے بے فائدہ: سابق اسرائیلی جنرلوں کا اقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" کے مطابق اسرائیلی فوج میں اعلی عہدوں پر خدمات انجام دینے والے کئی سابق جرنلوں نے اعتراف کیا ہے کہ فلسطینی اراضی میں یہودی بستیاں اسرائیل کے سکیورٹی مفادات کے حق میں نہیں۔

ان جرنلوں کے مطابق فلسطینی اراضی میں اسرائیلی آبادکاروں کا وجود قومی سلامتی پر بوجھ ہے کیوں کہ اسرائیلی فوج "نسبتا معمول" کے ایام میں بھی ان کے تحفظ کے لیے ایک بڑی نفری تعینات کرنے پر مجبور ہو گی۔

اسرائیلی محقق اویشے بن سیسن کے مطابق عوامی سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کی نصف سے زیادہ آبادی سمجھتی ہے کہ یہودی بستیاں اسرائیل کی سکیورٹی کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ تاہم اویشے کا کہنا ہے کہ "اگرچہ ماضی میں یہ خیال درست بھی رہا ہو مگر آج یہ خیال چلنے والا نہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کا وجود کسی طور دفاع کا حصہ نہیں بن رہا بلکہ یہ یقینا سکیورٹی فورسز پر بوجھ ہے۔ یہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے وسائل کا ایک بڑا حصہ چُوس رہا ہے"۔

اویشے نے جنرل نوعام ٹیفون کے حوالے سے بتایا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے طلب کی جانے والی فورسز کا حجم نصف سے زیادہ تک پہنچ چکا ہے اور بعض اوقات یہ تعداد دو تہائی تک پہنچ جاتی ہے۔

مختلف عکسری افسران سے بات چیت کے بعد محقق اویشے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مغربی کنارے میں تعینات اسرائیلی فوج کا تقریبا 80% حصہ یہودی بستیوں کا براہ راست دفاع سر انجام دے رہا ہے۔ اویشے کے مطابق اسرائیلی دیوار گرین لائن کے اندر کارروائیاں کرنے والوں پر روک لگانے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ تاہم یہ دیوار آباکاروں کی جانب سے مخالفت کے سبب مکمل نہ ہو سکی جن کو بستیوں کے بعض حصے کو دیوار کی دوسری جانب باہر کر دینے پر اعتراض تھا۔

اویشے نے تحریر کیا ہے کہ فلسطینی اراضی میں اسرائیلی فوج کو درپیش بنیادی مسئلہ "حملوں کی کارروائیوں کا خطرہ" ہے۔ محقق کے مطابق گرین لائن سے مشرق کی جانب ہر اسرائیلی بستی کمزوری کے نقطے میں تبدیل ہو رہی ہے۔

یہودی بستیاں کسی طور اُس لڑائی میں فوج کی مددگار نہیں جس کو اسرائیل دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس عسکری کوشش میں ان کا اثر واضح طور پر منفی صورت میں ہے۔ یہ فلسطینی قصبوں کے پڑوس میں ہیں لہذا یہاں دراندازی اور معلومات اکٹھا کرنا آسان ہے۔