تعلقات منقطع ہونے کے بعد قطر کی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ دوحہ کے لیے سنگین اقتصادی بحرانات کا باعث ہو گا۔

چاروں ممالک قطر کے لیے اپنی تمام بحری اور فضائی حدود کو بند کر دیں گے اور قطر کے ذرائع نقل و حمل کے واسطے عبور کی ممانعت ہو گی۔ قطر کی فضائی کمپنی جو ملک کے لیے بنیادی اقتصادی ذریعہ شمار ہوتی ہے اس کو طویل روٹ اپنانے ہوں گے اور یہ امر ٹرانزٹ مسافروں پر منحصر اس کے عملی نمونے کو سبوتاژ کر دے گا۔

خشکی کے راستے سرحدی حدود صرف سعودی عرب کے ساتھ ہونے کے سبب زمینی راستے سے تجارت مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گی۔

سعودی عرب اور امارات کا شمار قطر کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں ہوتا ہے۔ غذائی اشیاء کی تجارت کے حوالے سے دونوں ملکوں کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔

سال 2015ء کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ریاستیں قطر کو غذائی اشیاء کی برآمد کے لحاظ سے بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر تھیں جن کی مجموعی مالیت 31 کروڑ ڈالر رہی۔

مال مویشی کی تجارت کے لحاظ سے سعودی عرب کا پہلا اور امارات کا پانچواں نمبر رہا جس کی مجموعی مالیت 41.6 کروڑ ڈالر تھی۔
سبزیوں کی تجارت کے شعبے میں برآمد کنندگان میں امارات دوسرے نمبر پر اور سعودی عرب چوتھے نمبر پر رہا اور یہاں مجموعی مالیت سالانہ 17.8 کروڑ ڈالر تھی۔

جہاں تک ایندھن کی تجارت کا تعلق ہے تو برآمد کنندگان میں بحرین پہلے اور امارات دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں مجموعی مالیت تقریبا 20 کروڑ ڈالر رہی۔

قطر کو معدنیات برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں امارات پہلے نمبر پر ہے جس کی سالانہ مالیت 50 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

خشکی کے راستے تجارت رک جانے کے ساتھ ہی قطر میں 2022ء کے فٹ بال عالمی کپ کے انعقاد کی تیاریوں کو زبردست دھچکا لگے گا۔ اس لیے کہ منصوبے کے لیے مطلوب وسیع پیمانے پر تعمیرات کے زیادہ تر سامان کی درآمد کے واسطے قطر کا انحصار سعودی عرب کی برّی سرحد پر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں