.

الرقہ میں داعش پر بھرپور حملے کا آغاز کر دیا: سیریئن ڈیموکریٹک فورسز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز SDF کے ترجمان نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ الرقہ شہر میں داعش تنظیم پر حملے کا آغاز شہر کی مشرقی ، مغربی اور شمالی سمت سے کیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ معرکہ گھمسان کا ہو گا کیوں کہ داعش شام میں اپنے گڑھ کے دفاع کے واسطے سر دھڑ کی بازی لگا دے گی۔

ترجمان نے واضح کیا کہ امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد فضائی کارروائیوں کے ذریعے الرقہ پر حملے میں بہت بڑا کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ زمینی طور پر اس کی فورسز سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے شانہ بشانہ ہوں گی۔

ادھر امریکا کے زیر قیات بین الاقوامی اتحاد نے منگل کے روز کہا ہے کہ شام کے شہر الرقہ کو واپس لینے کا معرکہ "طویل اور دشوار" ہوگا تاہم یہ اُس سوچ پر فیصلہ کن ضرب ثابت ہوگا جس پر داعش قائم ہے۔

بین الاقوامی اتحاد کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل اسٹیو ٹاونسینڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ " ہم سب نے برطانیہ میں مانچسٹر کا خوف ناک حملہ دیکھا.. داعش صرف عراق اور شام کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے وطنوں کے لیے خطرہ ہے۔ یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ موصل اور الرقہ میں داعش کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے بعد بھی مشکل لڑائی باقی رہے گی مگر یہ بین الاقوامی اتحاد آخرکار عراق اور شام میں داعش پر قابو پانے کے حوالے سے طاقت ور اور اس امر کا پابند ہے"۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے داعش کے زیر قبضہ شہر الرقہ کے مشرق میں واقع علاقے پر حملے کا آغاز کر دیا ہے.. یہ فورسز شہر کے شمال میں بیرونی اطراف میں عسکری اڈے کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔
اس سے قبل SDF کی جانب سے کہا گیا تھا کہ الرقہ شہر کا سقوط جلد یعنی چند ہفتوں یا ایک ماہ کے اندر ہو جائے گا اس لیے کہ عراق اور شام میں اپنے زیر کنٹرول متعدد علاقوں میں ہزیمتوں کا سامنا کرنے کے بعد شدت پسند تنظیم بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔