.

شام میں ایرانی شیعہ ملیشیا کا افغان جنگجو کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑنے والی ’فاطمیون‘ ملیشیا کے انٹیلی جنس چیف شام اور عراق کی سرحد پر واقع التنف کے مقام پر بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہو گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ابنا‘ کے مطابق پاسداران انقلاب کی شام میں سرگرم افغان جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون ملیشیا کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ محمد حسینی المعروف سلمان النتف میں اس وقت ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ہلاک ہوا جب وہ عراق اور شام کی سرحد پر جاسوسی کے مشن پر تھا۔

خیال رہے کہ عراق اور شام کی سرحد پر واقع التنف شہر کے دونوں اطراف میں عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے جنگجو گذشتہ چند ہفتوں سے موجود ہیں۔ انہوں نے التنف گذرگاہ پرقبضے کی بھی متعدد بار کوشش کی ہے تاہم امریکا نے خبردار کیا ہے کہ التنف گذرگاہ کی طرف اسدی فوج یا اس کی حامی ملیشیا کی آمد کے نتائج کی ذمہ داری شدت پسندوں پرعاید ہوگی۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل ایرانی اور افغان جنگجوؤں پر مشتمل عسکریت پسندوں نے ظاظا گذرگاہ کی طرف جاتے ہوئے اپنا راستہ اس وقت تبدیل کیا تھا جب امریکی فوج نے ان پر بمباری کی تھی۔

امریکا کی قیادت میں سرگرم عالمی اتحادی فوج نے گذشتہ ہفتے شامی فوج اور اس کے حامی ملیشیاؤں کے زیرکنٹرول علاقوں پر جہازوں سے پمفلٹ گرائے تھے جن پر انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ظاظار گذرگاہ کی طرف جانے کی کوشش نہ کریں ورنہ اس کے سنگین نتائج کی ذمہ داری شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا پر عاید ہوگی۔

خیال رہے کہ ظاظا گذرگاہ دمشق اور بغداد کو باہم ملانے والی بین الاقوامی شاہراہ پر واقع ہے۔ اس شاہرہ کو داعشی جنگجو بھی دونوں ملکوں میں آمد ورفت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی شام کی سرحد پر محفوظ زون کےقیام کے لیے اس شاہراہ کا کنٹرول اپنی حامی فوسز کو دینے پر مصر ہے۔

ادھر اسی سیاق میں جیش الحر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے ظاظا چیک پوسٹ اور سبع بیار کے مقامات پر اسدی فوج اور اس کی حامی ایرانی ملیشیا پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اور جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔