.

عراق: شیعہ کمانڈر لاشوں کی بے حرمتی کا مرتکب

الحشد الشبعی لیڈر کے انسانیت کے خلاف جرائم کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی پر اس کے قیام وسط 2014ء کے بعد سے ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

الحدث ٹی وی پر نشر کی گئی ایک فوٹیج میں الحشد الشعبی کے ایک معروف لیڈر ابو عزرائیل کے وحشیانہ جرائم کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الحشد الشعبی کا یہ لیڈر ذرائع ابلاغ میں مشہور ومعروف ہے اور وہ ماضی میں جرائم سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی دیکھا گیا ہے۔

حال ہی میں ابو عزرائیل کی ایک فوٹیج سامنے آئی جس میں اسے دیگر جنگجوؤں کے ہمراہ ایک مقتول کی لاش کے پاس ہنستے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ابو عزرائیل مقتول کا نہ صرف تمسخر اڑاتا ہے بلکہ اس کی داڑھی کو آگ لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے سر پر لاتیں مارتا ہے۔

ابو عزرائیل کا براہ راست تعلق الحشد الشعبی میں شامل امام علی بریگیڈ سے ہے۔ وہ ماضی میں بھی اپنے فرقہ وارانہ اور انتہاپسندانہ بیانات کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ اگرچہ امام علی بریگیڈ کی طرف سے فوٹیج کو جعلی قرار دیا گیا ہے مگر اس کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ ابو عزرائیل کا ماضی اسی طرح کے جرائم سے داغ دار رہا ہے۔ اس لیے اس فوٹیج کےجعلی ہونے کا تاثر درست نہیں۔ الحشد الشعبی سے وابستہ جنگجوؤں پر عراق میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کےالزامات نئے نہیں ہیں۔

ایران کی حمایت یافتہ الحشد الشعبی اور اس کے تمام ذیلی عسکری گروپوں نے ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے، انسانیت کے خلاف جرائم اور فرقہ واریت کے بیج ہونے کے سوا عراق کو کچھ نہیں دیا۔ ابو عزرائیل کا شمار الحشد الشعبی کے انہی عناصر میں ہوتا ہے جو مخالفین کے بے رحمانہ قتل اور ان کی لاشوں کی توہین کے اعلانیہ مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ تازہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ الحشد الشعبی اور اس کے عسکری بزر جمہر نہ صرف مخالفین کے قتل میں ملوث ہیں بلکہ وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ لاشوں کی بھی بے حرمتی کرتے ہیں۔