.

عرب دنیا کے تحفظ کے لیے قطر سے ناتا توڑنا ناگزیر تھا: جامعہ الازہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی تاریخی دانش گاہ جامعہ الازہر نے بعض عرب رہ نماؤں کی جانب سے قطری حکومت کے ساتھ تعلقات توڑنے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ عرب اقوام کے اتحاد اور استحکام کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

جامعہ الازہر نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ گذشتہ چند روز کے دوران میں خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔اس نے عرب ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

جامعہ الازہر نے بیان میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مخالفانہ حکومتوں اور نظاموں کی جانب سے عرب خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے درپیش خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششیں دگنا کی جائیں گی اور اس ضمن میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا اور یہ مخالفانہ حکومتیں بھی ہوش کے ناخن لیں گی۔

قطر کی خطے میں جارحانہ پالیسیوں کے ردعمل میں سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے مشترکہ طور پر اس خلیجی ریاست کے ساتھ سفارتی ،تجارتی اور سیاسی تعلقات منقطع کر لیے ہیں اور ٹرانسپورٹ کے روابط کو بھی بند کردیا ہے۔ ان کے بعد یمن ، لیبیا کی مشرقی حکومت اور مالدیپ نے بھی قطرکے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔