.

قطر نے منشوروں اور اچھی ہمسائیگی کو پامال کیا : سعودی کابینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی کابینہ نے باور کرایا ہے کہ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مملکت کی جانب سے خود مختاری کے اُن حقوق کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جن کی ضمانت بین الاقوامی قانونی نے دی ہے۔ اس کا مقصد مملکت کی قومی سلامتی کو دہشت گردی اور شدت پسندی کے خطرات سے بچانا ہے۔ سعودی عرب کا فیصلہ کن اقدام گزشتہ برسوں میں دوحہ کے حکام کی جانب سے خفیہ اور اعلانیہ طور پر وسیع پیمانے پر کی جانے والی خلاف ورزیوں کا نتیجہ ہے۔ ان خلاف ورزیوں کا مقصد مملکت کی داخلی صفوں میں پھوٹ ڈالنا اور اشتعال انگیزی پھیلانا تھا تا کہ عوام ریاست کے خلاف نکلے اور اس کی خود مختاری کو نقصان پہنچے.. اس کے علاوہ کئی دہشت گرد اور فرقہ ورانہ جماعتوں کو مکمل طور سپورٹ کیا گیا جس کا مقصد خطے کے استحکام کو نشانہ بنانا تھا۔ کابینہ نے اس موقف کو پھر سے دُہرایا کہ مملکتِ سعودی عرب دوحہ میں حکام کی جانب سے دُشمنانہ اقدامات سے قطع نظر ہر حال میں قطر کے عوام کی معاون رہے گی اور ان کے امن و استحکام کو سپورٹ کرتی رہے گی۔

سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ متعدد برادر ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے اس بات کا اظہار کر دیا کہ یہ تمام ممالک عرب دنیا کی وحدت کو برقرار رکھنے کے خواہش مند ہیں.. اور قطر کے اُن مسلسل اقدامات کے خلاف موقف رکھتے ہیں جن کے ذریعے خطے کے امن و استحکام کو متزلزل کرنے کی کوشش کی گئی اور تمام معاہدوں اور میثاقوں کے علاوہ بین الاقوامی قانون اور اچھی ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا گیا۔