.

‏ ایران : خودکش حملہ آور نے خود کو پارلیمنٹ میں دھماکے سے اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

‏ایران کے سرکاری میڈیا نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ دارالحکومت تہران میں ایرانی مجلسِ شوری (پارلیمنٹ) کے اندر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پارلیمنٹ کی عمارت کی پانچویں اور چھٹی منزلوں پر مسلح افراد موجود ہیں جب کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کے نشانچی متصل عمارتوں میں مورچہ بند ہو کر مسلح افراد پر فائرنگ کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے قریب سڑکوں پر درختوں اور گاڑیوں کے پیچھے صحافیوں اور کیمروں کی موجودگی کے بیچ فریقین میں شدید جھڑپ جاری ہے۔

تہران میں اٹارنی جنرل نے تمام مقامی اور غیرملکی صحافیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جائے وقوع سے دور رہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے دہشت گردی کے ایک دوسرے منصوبے کو ناکام بنا دینے کا اعلان کیا ہے اور شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال نہ کریں۔

اس سے قبل خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی مجلس شوری کو نشانہ بنانے والے حملے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے اور 4 کو یرغمال بنا لیا گیا جب کہ دو مسلح حملہ آور گرفتار بھی کر لیے گئے۔

اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ ایران میں بدھ کے روز فائرنگ کے دو علاحدہ واقعات پیش آئے۔ ان میں پہلا واقعہ پارلیمنٹ کے اندر جب کہ دوسرا واقعہ ملک کے جنوب میں خمینی کی قبر کے پاس پیش آیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بدھ کی صبح پارلیمنٹ کے اندر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پہرے دار ہلاک ہو گیا۔ بعد ازاں فارس خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ ایک دوسرے واقعے میں ملک کے جنوب میں انقلاب ایران کے سرخیل خمینی کی قبر کے نزدیک فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔

پارلیمنٹ حملے کے حوالے سے فارس اور مہر خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ "ایک مسلح شخص نے ایرانی پارلیمنٹ میں داخل ہو کر پہرے داروں پر اندھادھند فائرنگ کر دی اور پھر وہاں سے فرار ہو گیا"۔

ادھر تسنیم خبر رساں ایجنسی نے ایرانی ارکان پارلیمنٹ کی گواہی کے حوالے سے سے بتایا ہے کہ فائرنگ میں زخمی ہونے والا ایک پہرے دار دم توڑ گیا۔ مذکورہ ایجنسی کے مطابق حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا تاہم اس کی شناخت ابھی تک نامعلوم ہے۔

دوسری جانب اِسنا ایجنسی کے مطابق بدھ کی صبح 10:30 پر کئی مسلح افراد نے ایرانی پارلیمنٹ پر دھاوا بول کر فائرنگ کر دی۔ ایجنسی نے ایک رکن پارلیمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور گروپ 4 مسلح افراد پر مشتمل تھا جنہوں نے پارلیمنٹ میں داخل ہو کر وہاں موجود 4 پہرے داروں پر فائرنگ کر دی۔ اس کے نتیجے میں تین پہرے دار زخمی ہو گئے۔ مذکورہ رکن نے مزید بتایا کہ مسلح افراد اس وقت ارکان پارلیمنٹ کے دفاتر میں موجود ہیں اور ان کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔

سکیورٹی حکام نے ارکان پارلیمنٹ اور صحافیوں کو عمارت میں آںے یا اس سے باہر جانے سے روک دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کی کمیٹی نے عمارت کے اندر فائرنگ جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔