رابطہ عالمِ اسلامی کی "دہشت گردی سے متعلق فہرست "کی تائید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسلامی دنیا کی معروف تنظیم "رابطہ عالم اسلامی" نے اپنے ایک بیان میں جمعے کے روز سعودی عرب ، مصر ، امارات اور بحرین کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق شخصیات اور اداروں کی پابندی کی فرستوں کی مکمل تائید کی ہے۔ ساتھ ہی تنظیم نے یوسف القرضاوی کی "اسلامی فقہ اکیڈمی" کی رکنیت بھی ختم کر دی ہے۔ یہ اکیڈمی رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام اداراہ ہے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ " یہ فہرستیں اور درجہ بندی اس بات کو باور کراتی ہیں کہ مملکت سعودی عرب اور اس کے برادر ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کے مالی ذرائع کے خاتمے کے حوالے سے پاسداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے واسطے اپنی کوششوں میں اضافہ کرے"۔

سعودی عرب ، مصر ، امارات اور بحرین 59 شخصیات اور 12 اداروں کو دہشت گردی سے متعلق کالعدم فہرستوں میں شامل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جن کو قطر مال اور ہتھیار کے ذریعے سپورٹ کرتا ہے۔

چاروں مذکورہ ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ کالعدم عناصر کی فہرست قطر کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ عناصر مشتبہ ایجنڈوں کے کام آ رہے ہیں جیسا کہ قطر کی پالیسی کے دُہرے پن سے ظاہر ہے جو ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے اور دوسری جانب مختلف دہشت گرد تنظیموں کو مالی رقوم اور پناہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں