عراقی دہشت گردوں کو قطرسے ایک ارب ڈالردینے کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی حکومت نے عالمی سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ قطر کی جانب سے عراق میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ایک ارب ڈالر تاوان کی مدد میں دی جانے والی رقم کی تحقیقات کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے رکن ملک کی حیثیت سے سلامتی کونسل کو درخواست دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سلامتی کونسل قطر کی طرف سے عراقی دہشت گردوں کو 26 افراد کی رہائی کے بدلے قریبا ایک ارب ڈالر کی رقم بہ طور تاوان ادا کرنے کے الزامات کی تحقیقات کرے۔

خیال رہےکہ ایک سال قبل عراق کی حزب اللہ ملیشیا نامی ایک تنظیم نے قطر سےتعلق رکھنےوالے کچھ ماہی گیروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ چند ہفتے قبل عراق میں سرگرم ایرانی تنظیموں کی ثالثی سے شام میں دمشق سے حمص اور حماۃ سے حلب تک پھیلےعلاقے شامی فوج کو دینے اور قطری باشندوں کی بازیابی کے لیے بھاری رقم رشوت کے طور پردی گئی تھی۔

اقوام متحدہ میں مصر کےایک سینیر سفارت کار ایہاب مصطفیٰ نے بتایا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کو قطر کی جانب سے عراقی دہشت گردوں کو ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم فراہم کرنے کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔سفارت کار کا کہنا ہے کہ ہم نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ اگر دوحہ پر عرقی دہشت گرد تنظیموں کو رقوم کی فراہمی کے الزامات درست ہیں تو یہ سلامتی کونسل کے فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک ریاست کی جانب سے دہشت گردوں کی مدد کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں قطر اور دوسرے خلیجی ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں جس کےبعد سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ملکوں نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں۔

عالمی سلامتی کونسل کی پلیٹ فارم سے دہشت گردی کی فنڈنگ اور معاونت کو ممنوع قرار دینے کی قراردادیں 2161،2199 اور 2253 منظور کی جا چکی ہیں جن میں دہشت گردی کی براہ راست یا بالواسطہ معاونت کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں