قطر:آل ثانی خاندان کے افراد دہشت گردی کی معاونت میں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی انٹیلی جنس اداروں اور محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں انکشاف کیا کیا گیا ہے کہ خلیجی ریاست قطر کے حکمران آل ثانی خاندان کے افراد دہشت گرد تنظیموں کی معاونت اور القاعدہ جیسے گروپوں کو بھاری مدد، انہیں قطر میں پناہ وتحفظ دینے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی چینل کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اور وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ دستاویزی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قطر کے حکمراں آل ثانی خاندان کے افراد اپنے سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پردہشت گرد تنظیموں کی براہ راست معاونت کرتے، دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دیتے، ان کے دہشت گردانہ ایجنڈے کو دوسرے ملکوں تک پہنچانے میں مدد کرتے، انہیں ہرطرح کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں

رپورٹس کے مطابق قطری وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور وزیر داخلہ عبداللہ بن خالد بن حمد آل ثانی نے قطر میں قائم اپنے نجی فارم ہاؤس میں 100 شدت پسندوں کو پناہ مہیا کی۔ ان میں افغانستان میں لڑنے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔ انہیں دوسرے ملکوں کے سفر کے لیے پاسپورٹس فراہم کیے گئے۔ ان میں سرفہرست القاعدہ کے خالد شیخ محمد اور دیگر شامل ہیں۔ قطری وزارت مذہبی امور براہ راست ان شدت پسندوں کی مالی مدد بھی کرتا رہا ہے۔

حکمراں خاندان کی ایک اور شخصیت عبدالکریم آل ثانی پر عراق میں القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی کو پناہ دینے اور سنہ 2002ء میں اسے افغانستان سے عراق منتقل کرنے میں مدد فراہم کی اور ساتھ ہی اسے شمالی عراق میں اپنی تنظیم کے قیام کے لیے ایک ملین ڈالر کی رقم بھی مہیا کی گئی۔

قطر کے حکمراں خاندان کے ساتھ ساتھ ان کی مقرب تنظیمیں بالخصوص قطر الخیریہ بھی دہشت گردوں کی بڑی سپورٹر سمجھی جاتی ہے۔ اس تنظیم کا ڈائریکٹر القاعدہ کارکن بتایا جاتا ہے۔ اس نے اریٹیریا سے دہشت گردوں کی دوسرے ملکوں کو منتقلی میں ان کی مدد کی اور انہیں رقوم مہیا کی گئیں۔

قطری وزار اوقاف کے ایک سابق افسر ابراہیم احمد حکمت شاکر پر نائن الیون حملوں میں ملوث دہشت گردوں سے رابطہ رکھنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ یہ اطلاعات بھی آئی تھیں قطری پولیس نے جن دو ہائی پروفائل دہشت گردوں کو حراست میں لیا احمد حکمت شاکر کے سان کے ساتھ براہ راست تعلقات قائم تھے۔

قطری حکومت نے گرفتار کیے گئے دونوں دہشت گردوں سے تفتیش کے بجائے انہیں واپس عراق بھیج دیا۔ اس ضمن میں قطرنے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے’ایف بی آئی‘ کے مطالبے پربھی توجہ نہیں دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں