قطر سے ہمدردی پر بحرین میں پانچ سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

خلیجی ریاست بحرین نے قطر کے ساتھ ہمدردی کرنے کو قابل سزا جرم قرار دیتےہوئے خبردار کیا ہے کہ دوحہ کےمعاملے میں دوسرے عرب ملکوں کی حالیہ پالیسی پرتنقید اور قطر کی حمایت پر پانچ سال تک قید اور بھاری جرمانہ کی سزاہوسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بحرین کی وزارت طلاعات کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی کو ریاستی ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا پر دوحہ کے خلاف اختیار کردی پالیسی پر تنقید کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی شخص بحرین کے اندر رہتے ہوئے قطر کےساتھ ہمدردی کا اظہار اور اس کے خلاف اٹھائے گئےاقدمات پر تنقید کرے گا تو اسے جیل بھیجا جائے گا۔ ایسے شخص کو جرمانہ اور پانچ سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

بیان میں ریاست کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ قطر کے حوالے سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے فیصلوں کی حمایت کریں۔ ان ملکوں کے فیصلوں کی مخالفت ریاستی مفادات کے خلاف تصور کی جائے گی۔

خیال رہے کہ قطر اور دوسرے خلیجی عرب ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کردیا ہے۔ بحرین کی حکومت نے قطر کی حمایت اور حکومتی فیصلوں کی مخالفت کو قابل سزا جرم قرار دیتےہوئے پانچ سال تک قید کی سزا کی منظوری دی ہے۔

بحرین سے قبل متحدہ عرب امارات بھی قطر کی حمایت اور اس کے ساتھ اظہار ہمدردی کو جرم قرار دے چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں