لیبیا میں قطر کے جرائم، دستاویزات اور ثبوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کی فوجی قیادت نے صوتیات ، تصاویر اور وڈیوز پر مشتمل ثبوت اور دستاویزات پیش کی ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ قطر 2011ء سے سرکاری طور پر دہشت گرد جماعتوں کو سپورٹ کرنے اور لیبیا میں مسلح کارروائیوں کے لیے مالی رقوم فراہم کرنے میں ملوث ہے۔ اس کا مقصد لیبیا میں امن کو غیر مستحکم کرنا اور تبدیلی کے جمہوری عمل پر ضرب لگانا ہے۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان کرنل احمد المسماری نے ایک پریس کانفرنس میں لیبیا میں قطر کے جرائم کے بارے میں یہ تمام ثبوت پیش کیے۔ ترجمان نے باور کرایا کہ اس خلیجی ریاست نے معمر قذافی کے سقوط کا سبب بننے والے انقلاب کے وقت سے ہی لیبیا میں ایک گِھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔

ایک دستاویز سے یہ امر ظاہر ہوا ہے کہ قطری ذمے داران لیبیا میں اختلافات بھڑکانے میں ملوث رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے قطری فوجی اہل کاروں کو لیبیا کی سرزمین پر بھیجا گیا اور متعدد علاقوں پر قبضے کی کوشش کی گئی جن میں معتیقہ اور مصراتہ نمایاں ترین ہیں۔ اس کے علاوہ لیبیا کے معاشرے کو برباد کرنے کے لیے ملک میں اربوں ڈالر جھونکے گئے اور اس سلسلے میں بعض لیبیائی باشندوں کے معاشی حالات سے فائدہ اٹھایا گیا اور لیبیا میں سابق قیدیوں کو سپورٹ کیا گیا یہاں تک کہ وہ رہ نما بن گئے۔
اس تمام معاملے میں ملوث قطری ذمے داران میں لیبیا میں قطری سفارت خانے کے سابق ناظم الامور محمد حمد الہاجری اور قطر کی انٹیلی جنس کے ایک سینئر ترین عہدے دار سالم علی الجربوعی شامل ہیں۔ وہ شمالی افریقہ کے ممالک میں قطر کے عسکری اتاشی کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ الجربوعی نے القاعدہ ، داعش اور الاخوان کو مادی طور پر سپورٹ کیا۔ اس نے قطری تیونسی بینک سے 8 ارب ڈالر کی خطیر رقم تیونس کے جنوب میں واقع صوبے تطاوین کے ایک بینک منتقل کی تا کہ وہاں سے یہ رقم دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ کے لیے لیبیا بھیجی جا سکے۔

علاوہ ازیں متعدد وڈیوز سے قطر کی شدت پسندوں کے لیے سپورٹ کا معلوم ہوا ہے جو بعد ازاں قائدانہ منصبوں پر فائز ہوئے۔ ان میں المہدی الحاراتی شامل ہے جو شاممیں ایک سخت گیر جماعت کا قائد تھا اور اب دارالحکومت طرابلس کی بلدیہ کا سربراہ ہے۔
قطر نے لیبیا سے 8000 جنگجوؤں کے شام بھیجے جانے میں بھی کردار ادا کیا جو بعد میں لیبیا لوٹ آئے۔ ان عناصر کو قطری طیاروں میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران کئی دہشت گردوں کو لیبیا میں لایا گیا جن میں انیس الحوتی بھی شامل ہے۔ وہ الجزائر میں مختار بلمختار کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف لڑائی میں سرگرمِ عمل رہا۔

لیبیا میں ہلاکتوں کے سلسلے کے پیچھے قطر کا ہاتھ رہا جس نے فوج اور پولیس کے نمایاں قائدین کے علاوہ دیگر افسران کو اپنی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان میں سرِ فہرست انقلاب کے دوران لیبیا کی فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالفتاح یونس ہیں۔ اس کے علاوہ لیبیا کی فوج کے موجودہ سربراہ خلیفہ حفتر پر بنغازی کے مشرق میں ابیار کے علاقے میں قاتلانہ حملہ شامل ہے۔
عزالدین القسام بریگیڈ قطر کے زیر انتظام لیبیا میں مداخلت کر رہا ہے

دستاویزات اور وڈیو ٹیپس سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ حماس کی فلسطینی قیادت نے لیبیا میں شدت پسند عناصر کو دھماخیز مواد اور آلات کی تیاری اور دھماکوں کی تربیت فراہم کی۔ یہ عناصر قطر کے زیر انتظام لیبیا میں ہونے والی ہر دھماکے کی کارروائی کے پیچھے تھے۔

لیبیا کا شہر بنغازی ایک سب سے بڑے جرم کا میدان تھا۔ قطری طیارے لیبیا کی سرزمین پر "بنينا بین الاقوامی" ہوائی اڈے پر اترتے تھے۔ اس کا مقصد "بنغازی کے انقلابیوں کی کونسل" کے نام سے دہشت گردوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کرنا ہوتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں