.

حوثی باغی سعودی عرب سے "ترسیلاتِ زر" کو محدود کرنے کے درپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے درالحکومت صنعاء میں بینکاری سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا ہے کہ حوثی اور معزول صالح کی باغی ملیشیائیں بیرون ملک مقیم یمنیوں (جن میں اکثریت سعودی عرب میں رہتی ہے) کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کو محدود کرنے کے درپے ہیں۔ 2014 کے اواخر میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے جانے کے بعد سے یمنی عوام کے خلاف مسلح ملیشیاؤں کی جنگ میں یہ ترسیلات لاکھوں لوگوں کو غربت اور بھوک سے بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق باغی ملیشیاؤں کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب سے آنے والی ترسیلات زر کے حوالے سے بعض ہدایات اور شرائط ہیں جن کو لاگو کرنا لازم ہے۔ ذرائع نے باغیوں کے ارادے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جو یمن کی زمین بوس معیشت میں باقی رہ جانے والی زندگی کی ہلکی سی رمق کو بھی ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

باغی ملیشیاؤں نے کچھ عرصہ قبل دارالحکومت صنعاء میں اپنے مسلح عناصر کو کرنسی ایکسچینج کے مراکز بھیجا جنہوں نے سعودی عرب سے آنے والی ترسیلات زر وصول کرنے والے افراد سے پوچھ گچھ کی۔

کرنسی ایکسچینچ سے متعلق بعض یمنیوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ باغی ملیشیاؤں کی جانب سے کرنسی ایکسچینج میں کام کرنے والے کچھ کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان افراد پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ "ایجنٹوں" کی تنخواہیں حوالے کرتے ہیں۔

یہ بہت مشکل ہے کہ آپ کو یمن میں کوئی ایسا خاندان مل جائے جو بلا واسطہ یا بالواسطہ طور پر غیر ملکیوں کی ترسیلاتِ زر سے مستفید نہ ہوتا ہو۔ ان غیر ملکیوں میں 80% سعودی عرب میں موجود ہیں جن کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ لوگ انقلاب کے بعد سے دو برسوں کے دوران 5 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی ترسیلات زر یمن بھیج چکے ہیں۔

باغی ملیشیاؤں کے مذکورہ اقدامات کا نتیجہ فوری طور پر یمنی ریال کی قدر میں کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ ایک سعودی ریال کی قیمت 96 یمنی ریال تک پہنچ گئی جو کہ کافی عرصے سے 92 یمنی ریال پر مستحکم تھی۔

مقامی ماہرینِ معیشت کو باغی ملیشیاؤں کے کسی بھی اقدام کے حوالے سے سخت اندیشہ ہے جن میں سعودی عرب سے آنے والی ترسیلات زر کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ ترسیلات وہ واحد سبب شمار کی جاتی ہیں جس پر نہ صرف ملک کی لڑکھڑاتی معیشت قائم ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی کی ڈور اس کے ساتھ مربوط ہے۔