.

دہشت گردی سے متعلق ٹرمپ کا قطر سے مطالبہ.. سعودی اماراتی خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کا خیر مقدم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی روک دے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب کے ایک ذمے دار ذریعے نے ٹرمپ کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ اب اختیاری نہیں بلکہ لازمی بن چکی ہے جس کی پاسداری جلد اور پُرعزم اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کے ہر ذریعے کی جڑ کاٹ دینا ہے"۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی امریکی صدر کی جانب سے قطر سے کیے جانے والے مطالبے کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکا میں اماراتی سفیر یوسف العتیبہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک باور کراتا ہے کہ قطر پر لازم ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسی کا جائزہ لے اور اس پر نظرِ ثانی کرے۔

العتیبہ کی نے ایک بیان میں مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات ٹرمپ کے زیر قیادت قطر کی اُس پریشان کُن سپورٹ کا مقابلہ کرنے کا خیر مقدم کرتا ہے جو دوحہ شدت پسندی کے لیے پیش کر رہا ہے.. قطر کو چاہیے کہ وہ ان اندیشوں کا ادراک کرے کیوں کہ یہ کسی بھی بات چیت کے لیے بنیادی امر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز وہائٹ ہاؤس میں رومانیہ کے صدر کلاؤس یوہانس کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ " دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی کے حوالے سے قطر ایک نہایت بلند سطح کی تاریخ رکھتا ہے۔ میں امریکی وزیر خارجہ اور عسکری قیادت کے ساتھ اس امر پر متفق ہوں کہ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی مالی سپورٹ روکے جانے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قطر سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت ترک کر دے"۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "کسی بھی تہذیب یافتہ ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس تشدد کو قبول کر لے یا اس پُر عناد سوچ کو اپنے ساحلوں پر پھیلنے کی اجازت دے"۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ریاض سربراہ کانفرنس دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی کے اختتام اور اس کی ہزیمت کا آغاز ثابت ہو گی۔ انہوں نے اس تاریخی سربراہ کانفرنس کے انعقاد پر سعودی عرب اور شاہ سلمان کا شکریہ ادا کیا۔