.

قطر کے سابق وزیر خارجہ کا "وولف آف القاعدہ "سے تعلق ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد عناصر اور بیرون ملک شدت پسند تنظیموں کو مالی رقوم فراہم کرنے والوں کے ساتھ " قطر کی نرمی" کا معاملہ پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے 2014ء میں اپنی ایک رپورٹ میں عبدالعزیز بن خلیفہ العطیہ نامی شخص کو Wolf of al-Qaeda کا خطاب دیا تھا۔ یہ شخص قطر کے سابق وزیر خارجہ خالد العطیہ کا چچا زاد بھائی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عبدالعزیز العطیہ پر القاعدہ تنظیم کو مالی رقوم پہنچانے کا الزام تھا اور 2012ء میں لبنان میں اس کے خلاف عدالتی کارروائی ہونے والی تھی.. تاہم لبنانی حکام نے گرفتاری کے چند روز بعد ہی اسے رہا کر دیا۔ یہ رہائی قطری حکومت کے دباؤ کا نتیجہ تھی جس نے اپنی دھمکی میں کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ہزاروں لبنانیوں کو ملک سے نکال دے گا !

ٹیلی گراف نے عبدالعزیز العطیہ کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس دوران العطیہ کی شام میں سرگرم عمل تنظیم جبہۃ النصرہ (جس کا نام اب جبہۃ فتح الشام یعنی جفش ہو گیا ہے) کے لیے سپورٹ واضح ہو گئی۔ علاوہ ازیں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن اور داعش کے لیے بھی العطیہ کا تائیدی موقف رہا۔

اسی طرح قطر کے وزیر اوقاف اور وزیر داخلہ عبداللہ بن خالد بن حمد آل ثانی کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں نمایاں ہے۔ ان پر قطر میں اپنے فارم میں شدت پسندوں کو پناہ دینے اور سفر کے واسطے پاسپورٹ فراہم کرنے کے علاوہ یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے اپنا ذاتی مال اور وزارت مذہبی امور و اوقاف کے مال کو القاعدہ تنظیم کی شاخوں کی قیادت کی مالی معاونت میں استعمال کیا۔