اسرائیل : نیتنیاہو کو بدنام کرنے کی پاداش میں صحافی پر ہرجانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی عدالت نے اتوار کے روز ایک اسرائیلی صحافی کے خلاف دائر کیے جانے والے مقدمے کا فیصلہ وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو اور ان کی اہلیہ سارہ کے حق میں دے دیا۔ مذکورہ صحافی نے دعوی کیا تھا کہ ایک مرتبہ بیت المقدس سے تل ابیب جاتے ہوئے راستے میں جھگڑے کے دوران سارہ نے نیتنیاہو کو گاڑی سے باہر نکال دیا تھا۔ اس پر صحافی کو اسرائیلی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی جانب سے ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

تل ابیب کی عدالت نے Igal Sarna نامی صحافی کو حکم دیا ہے کہ وہ نیتنیاہو اور ان کی اہلیہ کو ہرجانے کے طور پر 32500 امریکی ڈالر ادا کریں کیوں کہ سارنا نے گزشتہ برس فیس بک پر اپنی پوسٹ کے ذریعے اسرائیلی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔

عدالت کے سامنے بیان میں نیتنیاہو کا کہنا تھا کہ ایسا ہر گز نہیں ہوا جب کہ سارنا نے بتایا کہ اسے یہ بات ایک جاننے والے نے وزیراعظم کے محافظ کے حوالے سے بتائی تھی۔

نیتنیاہو کے مطابق "سارنا نے تمام حدوں کو پار کر لیا ، یہ انتہائی شرم ناک اور بے ہودہ جھوٹ ہے"۔

ایگال سانا اسرائیلی اخبار "يديعوت احرونوت" کے لیے لکھتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں نیتنیاہو کے اپنی اہلیہ کے ساتھ تعلقات کو گڑبڑ کا شکار قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ادھر رواں برس جنوری میں نیتنیاہو نے میڈیا کو "بائیں بازو" کے نظریات کا حامل قرار دیا تھا۔

اس سے قبل 2016 میں بیت المقدس کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سارہ نیتنیاہو نے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے ملازمین کو ہتک آمیز رویے کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر سخت غصے کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں اس وقت پولیس ایک معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں سارہ کے ساتھ پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ریاست کے لیے مختص رقم کو اپنی ذاتی ضرورت کے لیے استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں