انسانی امداد کی آڑ میں ایران قطر میں کود پڑا

فضائی اور بحری سروس کے ذریعے غیرمعمولی نقل وحرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطر اوردوسرے خلیجی ملکوں کےدرمیان پیدا ہونے والے سفارتی تنازع کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئےایران نے قطر میں انسانی امدادی آپریشن کی آڑ میں بڑے پیمانے پر فضائی اور بحری سروسز کا آغاز کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چار عرب ملکوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کےسفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کےبعد ایران کی طرف سے دوحہ میں غیرمعمولی مداخلت شروع ہوگئی ہے۔ ایران نے دوحہ کے لیے اپنی فضائی سروسز بڑھا دی ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی کی آڑ میں ایک بندرگاہ کو دوحہ تک آمد ورفت کے لیے مختص کردیا گیا ہے۔

قطرمیں ایرانی مداخلت ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب ایران پہلے خطے کےچارملکوں عراق، شام، لبنان اور یمن میں کھلم کھلا مداخلت کا مرتکب ہے۔ اب تہران نے قطر میں انسانی امداد پہنچانے کی آڑ میں فضائی اور بحری آپریشن کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران خلیجی ملکوں کے قطر کےساتھ سفارتی بحران کو اپنے لیے موق غنیمت سمجھتے ہوئے قطر میں اپنی موجودگی اورمداخلت کو بڑھا رہا ہے۔ بہ ظاہر ایران کی طرف سے دوحہ کےساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہےمگر ان تعلقات کے پس پردہ دوحہ کو اپنے چنگل میں پھنسانے کی مذموم کوشش ہے۔

ایران کی سرکاری ایئرلائن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران اور شیراز کے ہوائی اڈوں سے چار پروازیں غذائی سامان کے ساتھ قطر روانہ کی گئی ہیں۔ ایرانی حکومت کے ایک دوسرے عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے دوحہ کے لیے پروازوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ایران اور قطر کے درمیان فضائی نقل وحمل میں مزید تیزی لائی جائےگی۔

اسی سیاق میں ایرانی حکومت نے ’بو شہر‘ بندرگاہ کو تہران اور دوحہ کے درمیان تجارتی آمد ورفت کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران کی طرف سے خلیجی ملک قطر میں مداخلت ایک ایسے وقت میں بڑھتی جا رہی ہے جب قطر اور دوسرے خلیجی ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ قطر کے لیے ایرانی مداخلت قبول کرنے اور خلیجی پڑوسیوں میں سے کسی ایک کو قبول کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں