دستاویز : قطر 1800 شدت پسند جنگجوؤں کو عراق بھیجنے میں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا میں قطر کے سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک خط کے ذریعے انکشاف ہوا کہ قطر نے عراق میں شدت پسند جماعتوں کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لینے کے لیے شمالی افریقہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریبا 1800 جنگجوؤں کو تیار کیا۔

یہ مراسلہ ستمبر 2012ء میں طرابلس میں قطر کے سفارت خانے کے ناظم الامور نایف عبد الله العمادی کی جانب سے قطری وزارت خارجہ میں عرب امور کے ڈائریکٹر کو بھیجا گیا تھا۔ مذکورہ دستاویز میں بتایا گیا کہ قطری سفارت خانہ لیبیا سے 1800 جنگجوؤں کی عراق منتقلی کی نگرانی کرے گا۔ ان افراد نے الزنتان ، بنغازی ، الزاویہ اور مصراتہ کے عسکری کیمپوں میں تربیت مکمل کر لی ہے۔ تمام جنگجوؤں کو تین کھیپوں میں لیبیا کی بندرگاہوں سے ترکی پہنچایا جائے گا جہاں سے سوہ کردستان ریجن کے راستے عراق پہنچیں گے۔

مراسلے میں یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ العمادی مراسلے کی تاریخ کے اگلے ہفتے کے دوران ترکی کے ساتھ کوآرڈی نیشن کے ذریعے جنگجوؤں کی منتقلی کی نگرانی کریں گے۔

لیبیا کی فوجی قیادت کے ترجمان احمد المسماری نے جمعے کی شب ایک ٹی وی گفتگو میں بتایا تھا کہ فوج کے زیر انتظام سکیورٹی اداروں کو ایسی دستاویز حاصل ہوئی ہے جو دہشت گرد گروپوں کی سپورٹ میں قطر کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔ یہ دستاویز "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بھی موصول ہوئی ہے۔

المسماری نے مطالبہ کیا کہ قطری شہریت کے حامل نایف عبداللہ العمادی کو بھی دہشت گرد شخصیات کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق العمادی کچھ عرصہ پہلے تک دارالحکومت طرابلس میں موجود تھا اور وہاں تمام کارروائیاں بالخصوص مالی معاملات سر انجام دے رہا تھا۔ ان میں مادی سپورٹ ، اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی شامل ہے۔

دوسری جانب لیبیا کے سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مسلح جنگجو تنظیم "الجماعہ اللیبیہ المقاتلہ" کا امیر عبدالحکیم بلحاج 2015 سے اب تک ترکی کے راستے شام اور لیبیا کے درمیان تین ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کو منتقل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ قطر کے قریب شمار کیے جانے والے بلحاج نے "لیبیا وِنگ" کے نام سے ایک خصوصی فضائی کمپنی کا افتتاح کروایا جو ستمبر 2015 سے استنبول کے لیے ہفتے میں تین پروازیں چلا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق بلحاج کی ملیشیاؤں کے زیر قبضہ طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے موصول معلومات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران شدت پسند جنگجوؤں کو بلحاج کی کمپنی کے طیاروں کے ذریعے شام اور لیبیا کے درمیان منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف جنگجو تنظیموں کے زخمی ارکان کو علاج کی غرص سے ترکی پہنچایا گیا۔

شام میں جبہۃ النصرہ میں شامل ہو کر لڑنے والے کمانڈر المہدی الحاراتی کو بلحاج کے قریب نمایاں ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ 2011ء میں بلحاج کے زیر صدارت طرابلس کی عسکری کونسل میں بلحاج کے نائب کے طور پر کام کر چکا ہے۔

بلحاج اور الحاراتی ان اہم ترین شخصیات میں سے ہیں جن کو 2011ء کے دوران طرابلس پر حملے کے بعد قطر کے "الجزیرہ چینل" نے "انقلابیوں کے قائدین" کے طور پر نمایاں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں