سابق امیر قطر نے ایک ملین ڈالر القاعدہ کو کیوں ادا کیے؟

الجزیرہ ٹی وی کے القاعدہ سے تعلق کے چونکا دینے والے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل سے وابستہ ایک سابق صحافی یسری فودہ نے اپنی ایک کتاب میں سابق امیر قطر، الجزیرہ ٹی وی کے القاعدہ کے ساتھ مراسم کے چشم کشا انکشافات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجزیرہ ٹی وی ’سربستہ راز‘ کے عنوان سے نشر کیے جانے پروگرام کے سابق پیش کار نے ’القاعدہ کی پناہ گاہوں سے داعش کی گود تک تکلیف دہ راستہ‘ کے عنوان سے کتاب تالیف کی۔ اس کتاب میں مصنف نے 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور آپریشن کے جنرل کوآڑڈینیٹر رمزی بن شیبہ سے کراچی میں ایک فلیٹ میں تفصیلی ملاقات کی۔ یسری فودہ نے القاعدہ کے اہم لیڈروں کے ساتھ ہونے والی غیرمعمولی اہمیت کی حامل ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھ فقیر کی جیب میں 50 ملین ڈالرکی معلومات ہیں‘۔

الجزیرہ ٹی وی کے نامہ نگاروں اور القاعدہ جیسی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے باہمی روابط کوئی نئی بات نہیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ یسری فودہ کی القاعدہ لیڈروں سے ملاقات کی تفصیلات سابق امیر قطرالشیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی حاصل کرنے کے لیے اتنے بے چین کیوں تھے۔

یسری فودہ اپنی کتاب میں اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’یہ 2002ء کے موسم گرما کے سست اور بے چین ایام تھے۔ میں بے چینی کے ساتھ القادہ لیڈروں سے ملاقات کی شرائط کے حصول کا منتظر تھا جن کا انہوں نے میری روانگی سے قبل مجھے پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس دوران میں معمول کی چھٹیاں گذارنے لندن میں تھا۔ وہاں پر الجزیرہ ٹی وی کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر الشیخ حمد بن ثامر آل ثانی نے لندن کے ایک پوش علاقے میں قائم ہوٹل میں شام کے کھانے کی دعوت دی۔ پیشہ وارانہ اور انسانی ہمدردی کا ہمار باہمی تعلق پہلے سے تھا۔ اس لیے مجھے ان کی دعوت عجیب نہیں لگی۔ میں شاہراہ جیمز پر واقع اطالوی ہوٹل پہنچا تو ثامر آل ثانی ہوٹل کے دروازے پرمیرے منتظر تھے۔

وہ مجھے ہوٹل کے اندر لے گئے جہاں ایک میزکے قریب کرسی پر ’سپورٹ‘ سوٹ میں ملبوس صاحب براجمان تھے۔ میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ میں تو امیر قطر کے سامنے ہوں۔

یسری فودی مزید لکھتے ہیں کہ میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ امیر قطر القاعدہ کی جانب سے ملاقات کی شرائط ہرقیمت پر حاصل کرنا چاہتے ہیں چاہے اس کے عوض نہیں القاعدہ کو بھاری قیمت کیوں ادا نہ کرنا پڑے۔

فودہ امیر قطر کے ساتھ ہونے والی خفیہ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’امیر قطر نے ہوٹل میں میرا گرم جوشی سے استقبال کیا اور کہ میں آپ کی چھٹیوں میں مخل ہوا ہوں۔ مقصد آپ سے ملاقات تھی۔ وقت ضائع کئے بغیر ہم اصل موضوع کی طرف آتےہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ القاعدہ لیڈروں کی ملاقات کے لیے کیا شرائط ہیں؟ میں نے انہیں تمام تفصیلات بتائیں اور بتایا کہ ثالث بھی درمیان آگئے ہیں اور وہ اب ہمارے ساتھ فنڈز کے حصول پر سودے بازے کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر امیر قطر نے پوچھا کہ اگرایک ملین ڈالربھی وہ مانگتے ہیں تو ہم شرائط کے حصول کے لیے انہیں ادا کریں گے۔

فودہ کا کہنا ہے کہ امیر قطر ہرقیمت پرالقاعدہ کی شرائط کے حصول کے خواہاں تھے۔

امیر قطر اور الجزیرہ ٹی وی کے سابق صحافی کے درمیان ہونے والی پس چلمن ملاقات میں اور فودہ کی القاعدہ کے دو انتہائی خطرناک لیڈروں سے ہونے والی ملاقات میں یہ طے پایا کہ القاعدہ الجزیرہ ٹی وی کے ذریعے ایک فلم نشر کرنا چاہتی ہے جس میں ستمبر 2001ء کے واقعات کے سال مکمل ہونے کے بعد ان کے بارے میں القاعدہ کا موقف بیان کیا جائے۔ اس دستاویزی فلم میں نائن الیون حملوں کے منصوبہ سازوں کے بیانات، واقعے کے پس منظراور اس کےویژن کا اظہار کیا جائے۔ مصنف نے تجویز پیش کی اس فلم کے ابتدائی حصے میں ’’انیس بھائیوں‘ کی تصاویر کے ساتھ بن لادن کی صوتی ریکارڈنگ جن میں وہ جہاد سے متعلق شعر گنگنا رہےہیں کو شامل کیا جائے۔ اس کےبعد سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کا صلیبی جنگوں سے متعلق بیان شامل کیا جائے۔

مذکورہ کہانی جہاں القاعدہ اور الجزیرہ کے درمیان باہمی تعلق کا پتا دیتی ہے وہیں قطری حکومت اور امیر قطر کی القاعدہ کے معاملے میں گہری دلچسپی کا بھی واضح ثبوت ہے۔ سنہ 2002ء میں پیش آنے والے اس واقعے کے دوران یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا امیر قطر کیا کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کسی سیاسی شخصیت یا سیکیورٹی افسر کےبجائے بہ نفس نفیس الجزیرہ ٹی کے پروگرام میزبان سے ملاقات کیوں ضروری سمجھی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں