یمن: تعز کے مشرق میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بھرپور اتحادی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ہفتے کی صبح تعز کے نواحی علاقوں میں باغی ملیشیاؤں کے خلاف سرکاری فوج کے آپریشن کے آغاز کے 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد تعز کے جنوبی اور مشرقی محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے۔

اس سلسلے میں عرب اتحادی طیاروں نے اتوار کی صبح شہر کے مشرقی حصے پر 15 سے زیادہ حملوں میں ملیشیاؤں کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے شہر کے مشرق میں اسپیشل سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے کی کوشش کی اور کیمپ کے اطراف میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔

اتحادی لڑاکا طیاروں نے تبہ اور فتیل کے علاقوں میں ملیشیاؤں کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب باغی ملیشیاؤں نے مختلف نوعیت کے بھاری اور درمیانے ہتھیاروں سے شہریوں اور رہائشی علاقوں پر اندھادھند اور شدید گولہ باری کی۔

یمنی فوج کے ہفتے کے روز تعز کے جنوب میں متعدد مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

یمن کے صوبے تعز میں سرکاری فوج کے ترجمان کرنل منصور الحسانی کے مطابق یمنی فوج کے یونٹوں نے ہفتے کو صبح سویرے تعز کے نواحی علاقوں میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر کامیاب عسکری آپریشن کیا۔ اس کے نتیجے میں باغیوں کے کم از کم 25 ارکان مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس دوران یمنی فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے کئی اہم اور تزویراتی ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ ان میں تعز کے مغربی اور جنوب میں الشقب ، الصو ، الضباب اور الکدحہ کے محاذ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں