1992ء کے بعد یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے بڑے منصوبے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے 1992ء کے بعد اس سال کے دوران میں اب تک یہودی آبادکاروں کے لیے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کے بڑے منصوبوں پر کام شروع کیے ہین جبکہ اس کو عالمی برادری کی جانب سے دباؤ کا بھی سامنا ہے اور اس نے متعدد مرتبہ خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے یہودی آباد کاری کے منصوبے سے تنازع کے دو ریاستی حل کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے اتوار کے روز یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے منصوبوں کی تفصیل کا اعلان کیا ہے۔لائبر مین نے صحافیوں اور وزراء کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے قبل بتایا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 8345مکانوں کی تعمیر کے منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا ہے اور ان میں سے 3066 مکانوں کی فوری تعمیر شروع کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2017ء کی پہلی ششماہی میں یہودی آبادکاروں کے لیے شروع کیے گئے مکانوں کی تعداد 1992ء کے بعد سب سے زیادہ ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے نئےمکانوں کی تعمیر کے منصوبے شروع کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے جبکہ ان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی دباؤ ہے اور وہ ان سے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے یہودی آباد کاری کے منصوبوں کو موخر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کی مخالف اسرائیلی تنظیم ’’ اب امن‘‘ نے بھی کم وبیش اتنے ہی مکانوں کے اعداد وشمار جاری کیے تھے۔اس نے بتایا تھا کہ اس سال کے دوران میں اب تک 7721 مکانوں کی تعمیر کے منصوبوں کو مختلف سطحوں پر آگے بڑھایا گیا ہے اور یہ تعداد گذشتہ سال کے دوران میں منظور کیے گئے مکانوں کی تعداد 2699 سے تین گنا ہے۔

اب امن نے یہ بھی اطلاع دی تھی کہ گذشتہ ہفتے کے دوران میں تین ہزار سے زیادہ مکانوں کی تعمیر کے لیے پیش رفت کی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق اسرائیل نے یہودی آبادکاروں کے لیے گذشتہ منگل کے روز ڈیڑھ ہزار مکانوں کا منصوبہ آگے بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے علاوہ نو سو اور مکانات بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ان کی اسرائیلی وزارت دفاع کی منصوبہ بندی کمیٹی نے بدھ کے روز تصدیق کی تھی۔اسی کمیٹی نے اسی روز 688 مزید مکانوں کی منظوری دی تھی۔

اب امن کی ڈائریکٹر مس ہیگیٹ عفران نے بتایا تھا کہ اس ہفتے کے دوران میں کل 3178 مکانوں کی مختلف سطحوں پر منظوری دی گئی ہے۔یہ منصوبے اب مختلف مراحل میں ہیں۔ یہ مکانات مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں تعمیر کیے جائیں گے۔ان کے علاوہ یہودی آبادکاروں کے لیے ایک پوری نئی بستی تعمیر کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت القد۔س ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں بیت المقدس کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اس اقدام کو امریکا سمیت عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے اور ان کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں