.

السلیطی.. القاعدہ کے ماہرِ مالی امور کے ساتھ کام کرنے والا قطری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعے کے روز سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں متعدد نام شامل تھے جن میں قطری شہری محمد جاسم السلیطی بھی شامل ہے۔

السلیطی کون ہے ؟

محمد جاسم السلیطی کو القاعدہ تنظیم کے مالی امور کے ماہر خلیفہ محمد ترکی السبیعی کا معاون شمار کیا جاتا ہے۔ السبیعی کا نام اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے کالعدم شخصیات کی فہرستوں میں شامل ہے اور اسے خلیجی ممالک اور مصر کے مشترکہ بیان میں بھی شامل رکھا گیا ہے۔

ستمبر 2014 میں قطر سے تعلق رکھنے والے السلیطی نے ایک مہم کی نگرانی کی۔ اس مہم کا آغاز السبیعی نے شام کے لیے امداد کے نام پر کیا تھا۔ اس کی آڑ میں شام میں القاعدہ کے عناصر کو مالی معاونت پیش کی گئی۔

اس کے علاوہ السلیطی شام میں مسلح ملیشیاؤں کے درمیان رسد اور امداد کی تقسیم کے عمل میں بھی شریک رہا۔ اس سرگرمی میں اس کو القاعدہ کے دو حمایتیوں سعد بن سعد الکعبی اور عبداللطیف بن عبداللہ الکواری کا تعاون بھی حاصل رہا۔ دونوں کے ناموں کا اندراج اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے کالعدم شخصیات کی فہرست اور اسی طرح چاروں عرب ممالک کے مشترکہ بیان میں بھی ہے۔

جون 2017 سے محمد جاسم السلیطی فلاحی تنظیم "قطر چیریٹی" کے ایک ذمے دار اور فلاحی منصوبوں کے کوآرڈی نیٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ تنظیم کا نام دہشت گردی کے حوالے سے کالعدم شخصیات اور اداروں سے متعلق مشترکہ بیان میں شامل ہے۔