.

عراق کے شہر کربلا میں بم دھماکے میں ایرانی ہاتھ کارفرما؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر کربلا میں گذشتہ جمعہ کو بم دھماکے میں ایرانی ہاتھ کارفرما ہونے کے شواہد منظر عام پر آئے ہیں۔اس بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے تھے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ایک عراقی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’ بم دھماکے کے بعد عراقی انٹیلی جنس فورسز نے جمعہ کی شب تحقیقات کے دوران میں پانچ ایرانیوں کو گرفتار کیا تھا ۔انھیں بم دھماکے کی جگہ کے نزدیک سے پکڑا گیا تھا اور ان سے دھماکا خیز مواد اور ریموٹ کنٹرول آلات برآمد ہوئے تھے۔

اس ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ ’’ عراقی فورسز نے حراست میں لیے گئے ان ایرانیوں کو تفتیش کے لیے کربلا میں محکمہ سراغرسانی کے ہیڈ کوارٹرز میں منتقل کردیا تھا لیکن اس کے چند منٹ کے بعد ہی علی اکبر بریگیڈ کے درجنوں اہلکاروں اور ایران کی حمایت یافتہ بدر ملیشیا نے انٹیلی جنس کے ہیڈ کوارٹرز کا گھیراؤ کر لیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ان ملیشیاؤں نے گرفتار کیے گئے پانچ ایرانیوں کو رہا کرانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی اور انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ انھیں صرف بغداد میں حکام کے حوالے کریں گے۔

اس کے بعد مسلح جنگجوؤں نے انٹیلی جنس کے صدر دفاتر پر دھاوا بول دیا تھا۔وہ زیر حراست پانچ ایرانیوں اور انٹیلی جنس سربراہ کو اپنے ساتھ یرغمال بنا کر لے گئے تھے۔

ان ملیشیاؤں نے انٹیلی جنس کے اس سربراہ کو ہفتے کو علی الصباح ساڑھے چار بجے کے قریب رہا کردیا تھا لیکن پانچ ایرانیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ انھیں کہاں لے جایا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد سے ایران کے اس بم دھماکے میں ملوث ہونے کے بارے میں شکوک مزید پختہ ہوگئے ہیں۔

کربلا میں اس بم دھماکے کا عراقی میڈیا میں بالعموم بائیکاٹ کیا گیا ہے اور صرف ایرانی میڈیا نے ہی اس کی تشہیر کی ہے۔اس نے واقعے کے فوراً بعد ہی یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ بم دھماکا اس جگہ سے کہیں دور ہوا ہے،جہاں ایرانی شہری موجود تھے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کربلا میں بم دھماکے کا تہران میں گذشتہ ہفتے پارلیمان پر حملے اور آیت اللہ خمینی کی قبر پر بم دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ اچانک ہوئے ہیں۔مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی رجیم اب ان بم دھماکوں کو اس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے جیسے وہ دہشت گردی کا بہت بڑا شکار ہے۔