.

قاسم سلیمانی اور اس کی ملیشیائیں شام عراق سرحد پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی اور اس کی ملیشیائیں شام - عراق سرحد پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے کئی مرتبہ کی جانے والی بم باری کے باوجود سامنے آئی ہے جس کا مقصد ان ملیشیاؤں کو سرحدی علاقے التنف کی جانب پیش قدمی سے روکنا تھا۔

ایرانی ایجنسی نے سلیمانی کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں وہ افغان ملیشیا فاطمیون کے عناصر کے درمیان نظر آ رہا ہے۔ یہ ملیشیا سلیمانی کے احکامات کے تحت بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لے رہی ہے۔ ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ بشار نواز ملیشیا امریکی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد دو روز قبل ان پوزیشنوں پر پہنچ چکی ہے۔

شام ، عراق اور اردن کے درمیان سرحدی تکون میں واقع علاقے التنف میں ایرانی ملیشیاؤں اور شامی جیشِ حُر کے گروپوں کے درمیان کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ فریقین کی جانب سے شامی نواحی علاقے میں کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے گزشتہ ہفتوں کے دوران التنف کے نزدیک ایرانی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر تین حملے کیے تھے۔ یہ کارروائی مذکورہ ملیشیاؤں کی جانب سے التنف کے علاقے کے قریب آنے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔

ایرانی ملیشیاؤں کی جانب سے شامی عراقی سرحد کی جانب پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب روس اور امریکا کے درمیان تناؤ کی صورت حال میں کمی آئی ہے۔ اس سے قبل امریکا نے روس کے اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

واشنگٹن کی جانب سے جمعے کے روز جاری بیان میں شام میں روسی مداخلتوں کو ملک کے جنوب میں کشیدگی کی کمی کے واسطے "انتہائی مفید" قرار دیا گیا تھا۔ اس دوران روس کے ایک سینئر فوجی ذمے دار نے امریکی فوج کی جانب سے شامی حکومت اور اس کے حلیفوں کی افواج کو جاری انتباہات کو " بے ہودہ جواز" قرار دیا۔

پینٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس کا کہنا تھا کہ "روس شامی نظام کے ہمنوا دیگر فریقوں یعنی ایران نواز ملیشیاؤں سے رابطے کی کوشش کر رہا ہے تا کہ ان فریقوں کو امن کو غیر مستحکم کرنے والی کارروائیاں کرنے سے روکا جا سکے"۔